’قوم جذبات نہیں مفادات کو سامنے رکھے‘

Image caption سیمینار میں بھارت سے تجارت کے فروغ پر زور دیا گیا

صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز اور لاہور چیمبر آف کامرس کے زیر اشتراک ملکی تجارت خاص طور پر پاک بھارت تجارت کو بڑھانے کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد ہوا۔

سیمنار سے خطاب میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں پاکستان کے سابق سفیر ڈاکٹر منظور احمد نے کہا پاکستان کی تجارتی پالیسی کی وجہ سے اِس کی معاشی ترقی میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور اگر ہم نے جنوبی ایشیا میں تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے اصلاحات نہ کیں تو ملکی ترقی اور خوشحالی کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ڈاکٹر منظور نے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں کے دوران پاکستان اُن چند ممالک میں سے ایک ہے جس کی تجارت میں کارکردگی سب سے بُری رہی ہے۔

اُنھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1980 تک پاکستان اور ترکی کی برآمدات تین بلین ڈالرز تھیں جبکہ اب ترکی کی برآمدات170 بلین جبکہ پاکستان کی صرف 25 بلین ڈالر ہیں۔

ڈاکٹر منظور کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اشیا پر ٹیکس بہت زیادہ ہیں اور اِس وقت پاکستان کا اوسط ٹیکس جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی نسبت تین گنا زیادہ ہیں اِس لیے ہم دنیا کو کوئی بھی خاص پراڈکٹ فراہم کرنے کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ۔

ڈاکٹر منظور نے بتایا کہ پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ سے بھی کافی آمدن حاصل کر سکتا ہے لیکن ہم نے زیادہ ڈیوٹی عائد کر کے اور سمگلنگ کے ڈر سے اِس کو بھی تالا لگایا ہوا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ بیس سالوں میں مختلف حکومتوں نے پاک بھارت تجارت کے فروغ کی بات تو ضرور کی لیکن پھر ہر بار یہ کہا گیا کہ ابھی وقت نہیں آیا ہے اور ہم جتنی تاخیر کر رہے ہیں اُتنا ہی نقصان اُٹھا رہے ہیں۔

ڈاکٹر منظور نے کہا کہ بعض عناصر اِن خدشات کا اظہار کرتے ہیں کہ پاک بھارت تجارت میں بھارت کا تجارتی حجم زیادہ ہو گا اور پاکستان پیچھے رہ جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ پھر تو خلیجی ممالک ، چین اور پاکستان کے تجارت حجم میں بھی کافی فرق ہے کیونکہ پاکستان چین سے گیارہ بلین کی اشیا درآمد کرتا ہے اور صرف دو بلین کی برآمد کرتا ہے۔

سیمینار سے خطاب میں سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشانے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت سےملکی جی ڈی پی میں دو فیصد کا اضافہ ہو گا اور ساتھ ہی ملک میں ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔

ڈاکٹر حفیظ نے کہا کہ وہ اشیا یا مشینری جو کہ پہلے ہی کسی دوسرے ملک مہنگے داموں خرید رہے ہیں اگر وہ ہمیں بھارت سے سستی مل رہی ہے تو ہم کو ضرور اُس سے لینی چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان نے خاص چین کے لیے کچھ اشیا پر ڈیوٹی کم کی ہے اُنہی اشیا پر بھارت کے لیے بھی کم ہونی چاہیے تا کہ ملکی برآمدات میں بھی اضافہ ہو۔

ڈاکٹر حفیظ نے کہا کہ ہمیں بحثیت قوم جذبات کو نہیں بلکہ اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے چاہیے۔

اِس موقع پر سابق وزیر تجارت ہمایوں اختر خان نے کہا کہ ایک طرف تو پاکستان کی بھارت کے ساتھ معمول کی تجارت نہیں ہے جبکہ دوسری طرف دونوں ممالک جنوبی ایشیا فری ٹریڈ ایریا کے رکن ہیں۔

ہمایوں اختر خان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے سلسلے میں اقتصادی اور تجارتی مفادات کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں