دم تورٹی امیدوں میں زندگی اور موت کے فیصلے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

چالیس دن کے شاہ زیب کے لیے ڈاکٹرز کچھ نہیں کر سکتے لیکن والدین کی امید ان کے ہاتھوں کو تھکنے نہیں دیتی۔

وہ ہاتھ کے پمپ سے اس کی سانسیں بحال کر رہے ہیں کیونکہ ہسپتال کے 15 وینٹی لیٹرز ہزاروں مریضوں کی مدد نہیں کر سکتے لیکن صرف ان کی جن کی بچنے کی شرح زیادہ ہے۔

ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس وسائل زیادہ ہوتے تو شاہ زیب بچ بھی سکتا تھا۔ ہسپتال کے وارڈوں میں بستر کم ہیں، زندگی اور موت کے درمیان الجھے ہوئے بچوں کو اکثر ایک ہی بستر پر لٹانا پڑتا ہے جس سے انفیکشن کا خطرہ رہتا ہے۔

لاہور میں قائم یہ پبلک سیکٹر ہسپتال بچوں کے دل کی بیماریوں کے لیے واحد یونٹ ہے جہاں پورے ملک سے آنے والے مریضوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں تقریباً 10 لاکھ بچے پیدائشی طور پر دل کے مرض کا شکار ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات اپنے رشتہ داروں میں شادیاں اور حاملہ خواتین کے لیے ناکافی طبی سہولیات بھی ہیں۔ تاہم بڑھتے اعداد و شمار سے نمٹنے کے لیے انفراسٹرکچر، مالی اور انسانی وسائل کی واضح کمی ہے۔

Image caption طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں تقریبا 10 لاکھ بچے پیدائشی طور پر دل کے مرض کا شکار ہیں

اس وقت آٹھ ہزار سے زائد بچے اس سرجری کی ویٹنگ لسٹ پر ہیں جن سے ان کی جان بچ سکتی ہے۔ یہ لسٹ بڑھ رہی ہے لیکن بچوں کے پاس وقت کم ہے۔

ہسپتال میں بچوں کے سرجن ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے ’بیشتر پیدائشی قلب کے امراض میں 80 فیصد صحت یابی کے امکانات ہیں اگر بر وقت مداخلت اور علاج کر لیا جائے۔ لیکن یہاں ہمارے پاس ہرسال چالیس ہزار سے زیادہ کیس آتے ہیں اور موجودہ حالات میں صرف ایک ہسپتال پورے پاکستان کے بچوں کا علاج نہیں کر سکتا۔‘

اس سرکاری ہسپتال میں روزانہ مشکل فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ہر ہفتے سو سے زائد بچوں میں سے محدود وسائل کے سبب صرف 11 یا 12 جان بچانے والے آپریشن ممکن ہو سکتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق کہتے ہیں یہ مرحلہ ان کے لیے تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ ’میں ایک ڈاکٹر ہوں اور میں یہ فیصلہ کیسے کروں کہ اس بچے کو ٹریٹمنٹ دی جائے گی اور دوسرے کو نہیں۔ میں کیسے یہ فیصلہ کروں کے کس بچے کو جینے کا حق ہے اور کس کو نہیں؟‘

دوسری جانب بچوں کے دل کی سرجری پر تین سے چار لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے۔ بیشتر والدین غربت اور مفلسی کے وجہ سے اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے گھٹ گھٹ کر زندگی سے دور ہوتا دیکھنے پر مجبور ہیں۔

Image caption اس سرکاری ہسپتال میں روزانہ مشکل فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ہر ہفتے سو سے زائد بچوں میں سے محدود وسائل کے سبب صرف 11 یا 12 جان بچانے والے آپریشن ممکن ہو سکتے ہیں

پاکستان میں ڈینگی اور ملیریا جیسی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے حکومتی مہمات اکثر اخباروں کی شہ شرخیاں بنتی رہی ہیں جبکہ طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں دس لاکھ کے قریب بچوں کو پیدائشی دل کا مرض لاحق ہے۔ ہر سال ہزاروں بچے اس وجہ سے جاں بحق ہو رہے ہیں جس پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔

پاکستان چلڈرنز ہارٹ فاؤنڈیشن اپنی نوعیت کا پہلا غیر سرکاری ادارہ ہے جو ملک بھر سے آنے والے ایسے بچوں کے مفت آپریشن کا انتظام کرتا ہے۔ ان کے نیٹ ورک میں قومی اور غیر ملکی ہارٹ سرجن شامل ہیں جو یہ آپریشن کرتے ہیں۔

اس سال یہ ادارہ سو سے زائد بچوں کی جان بچا چکا ہے تاہم ابھی تک یہ ادارہ نجی عطیات پر چل رہا ہے ۔

ادارے کے سربراہ فرہان احمد والدین کے درد کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ چند سال قبل ان کی اپنی بیٹی دل کے مرض سے ان سے جدا ہو گئی۔

ان کے خیال میں اس بیماری کی بہتر تشخیص اور طبی امداد کے نطام کی اشد ضرورت ہے اور معاشرے میں اس مسئلے کے بارے میں شعور اجاگر کرنا شاید اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔

’جب کسی کا ننمولود بچہ اس مرض کی نظر ہو جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں خدا اور اولاد دے دے گا۔ جب ایک بالغ کو دل کی بیماری ہوتی ہے تو اسے بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔‘

Image caption پاکستان میں ڈینگی اور ملیریا جیسی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے حکومتی مہمات اکثر اخباروں کی شہ شرخیاں بنتی رہیں ہیں جبکہ طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں دس لاکھ کے قریب بچوں کو پیدائشی دل کا مرض لاحق ہے، ہر سال ہزاروں بچے اس وجہ سے جاں بحق ہو رہے ہیں جس پر کوئی توجہ نظر نہیں دی جاتی

فرہان احمد کا خواب ہے کہ وہ بچوں کے لیے پاکستان کے مرکزی شہروں میں خصوصی کارڈک ہسپتال تعمیر کریں جہاں ان کا مفت علاج ہو سکےـ

لاہور کے ایک چھوٹے محلے میں رہنے والی لائبہ اب سات سال کی ہو چکی ہیں اور بڑا ہو کر استانی بننے کا خواب دیکھتی ہیں مگر چند سال قبل وہ ویٹنگ لسٹ پر موت کے دہانے پر تھیں۔

پاکستان چلڈرنز ہارٹ فاؤنڈیشن کی مدد سے اس کو ایک نئی زندگی ملی۔

لائبہ کے والد علی رضا رکشہ چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’مجھے لگتا تھا میری پیاری بیٹی مجھ سے بہت دور جانے والی ہے لیکن اب جب میں اپنی بیٹی کو ہنستے مسکراتےکھیلتے دیکھتا ہوں تو میں بتا نہیں سکتا کہ میری خوشی کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟‘

موجودہ صورت حال میں حکومت اور نجی شعبے کا کردار انتہائی اہم ہے تاکہ لائبہ جیسے بچے ہنستے مسکراتے رہیں اور روشن مستقبل کی وہ جھلک دیکھ سکیں جوپاکستان میں ہر بچے کا بنیادی حق ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں