سکاٹ لینڈ یارڈ کو ایک اور ملزم تک رسائی کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برطانیہ کی طرف سے ملزمان کی حوالگی سے متعلق کوئی درخواست نہیں کی گئی: وزیر داخلہ

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ایک اور ملزم تک رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے پہلے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم ایک ملزم معظم علی سے اپنی تفتیش مکمل کر چکی ہے۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے میں تین افراد قانون نافد کرنے والےاداروں کی تحویل میں ہیں جن میں معظم علی کے علاوہ محسن علی اور خالد شمیم شامل ہیں۔

تاہم وزیر داخلہ نے یہ نہیں بتایا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کس ملزم سے تفتیش کرے گی۔

بدھ کے روز پنجاب ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تیسرے ملزم سے تفتیش کا فیصلہ عید الفطر کے بعد کیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ ابھی تک برطانیہ کی طرف سے ملزمان کی حوالگی سے متعلق حکومتِ پاکستان کو کوئی درخواست نہیں کی گئی۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ان تینوں ملزمان سے تفتیش کے لیے مشترکہ تحققیاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے جو اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں رینجرز کی تعیناتی کی مدت میں توسیع کا معاملہ حل ہو جائےگا اور اس بات کا امکان ہے کہ امن و امان کے لیے رینجرز کو دیےگئے اختیارات میں توسیع ہو جائے گی اور ضمن میں وزیر اعلیٰ سندھ سے بات بھی ہوئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے رینجرز کو کراچی بھیجا اور اگر سندھ حکومت رینجرز کو دیےگئے اختیارات کو قانونی تحفظ نہ دے سکی تو پھر وفاقی حکومت رینجرز کو واپس بلا لےگی۔

ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان نے متحدہ قومی موومنٹ کا نام لیے بغیر کہا کہ جب اُن کے ’چہیتوں‘ کی حکومت تھی تو اس وقت تو وہ رینجرز کے حق میں نعرے لگاتے تھے لیکن اب رینجرز کے اہلکار بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کو نشانہ بنا رہے ہیں جس میں ایم کیو ایم کے لوگ بھی شامل ہیں تو پھر وہ رینجرز کے خلاف تقاریر کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ رینجرز کی تعیناتی کے معاملے میں صوبائی حکومت کی رضامندی کے خلاف وفاقی حکومت کوئی اقدام نہیں کرے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر کسی کو رینجرز کی تعیناتی یا اس کو دیےگئے اختیارات پر تحفظات ہیں تو اس کے لیے بھی فورم موجود ہیں۔

اسی بارے میں