رہائشی کالونی کے معاملے پر سینیٹ میں تحریک التوا منظور

پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوان بالا یا سینیٹ نے قومی زرعی تحقیقی مرکز یا این اے آر سی کی زمین پر رہائشی کالونی تعمیر کرنے کے معاملے پر بحث کرنے کی تحریک منظور کر لی ہے۔

مسلم لیگ ق کے سینیٹر مشاہد حسین کی جانب سے پیش کی گئی تحریک التوا منظور کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اسے عوامی اہمیت کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ اس معاملے پر بحث کے ذریعے حکومت کی رہنمائی کرے گی۔

این اے آر سی کی 12 سو ایکڑ زمین پر رہائشی کالونی بنانے کی تجویز وفاقی دارلحکومت کے ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے وزیراعظم نواز شریف کے سامنے پیش کر رکھی ہے۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ این اے آر سی کو اسلام آباد سے باہر منتقل کر کے اس کی جگہ پر رہائشی کالونی بنانے سے حکومت کو ڈیڑھ سو ارب روپے کا فائدہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے زرعی سائنسدانوں نے اس تجویز کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔

یہ معاملہ بدھ کے روز سینیٹ میں تحریک التوا کے ذریعے اٹھاتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین نے سی ڈی اے کی اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے اس اقدام کو اسلام آباد کے ماسٹر پلان اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی قرار دیا۔

سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستانی اشرافیہ کی جانب سے ملک میں لالچ و حرص پر مبنی پلاٹ قبضہ کلچر کو پروان چڑھایا جا رہا ہے جو قابل مذمت ہے۔

اسی بارے میں