رینجرز کے اختیارات اسمبلی کی منظوری سے مشروط

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وفاقی حکومت، دفاعی ادارے اور رینجرز ایک ہی صفحے پر نظر آتے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں مشتبہ افراد کو 120 روز کے لیے زیر حراست رکھنے کے حاصل اختیارات آج بدھ سے غیر موثر ہو جائیں گے۔

صوبائی حکومت نے ان اختیارات میں توسیع سے انکار کر دیا ہے اور کہا کہ ان اختیارت کا فیصلہ سندھ اسمبلی کرے گی۔

’اپنے دائرۂ اختیار میں رہیں:‘ ڈی جی رینجرز کو وزیراعلیٰ کی چٹھی

کراچی آپریشن میں جب رینجرز کو مرکزی کردار دیا گیا تو ساتھ میں انسداد دہشت گردی کے ایکٹ 1997 کے تحت کسی بھی مشتبہ شخص کو 90 روز کے لیے زیر حراست رکھنے کے اختیارات بھی دیے گئے، جن میں ہر چاہ ماہ کے بعد محکمہ داخلہ کی درخواست پر وزیر اعلیٰ سندھ توسیع کرتے رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت سندھ حکومت رینجرز کو اختیارات دینے سے قبل صوبائی اسمبلی سے منظوری حاصل کرنے کی پابند ہے۔

’اس مرتبہ رینجرز کی مدت میں توسیع دینے میں بعض دشواریوں کا سامنا ہے، کیونکہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد حکومت سندھ ازخود رینجرز کی مدت میں توسیع نہیں کر سکتی اور انھیں منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی سے رجوع کرنا پڑے گا۔‘

آئینی امور کے ماہر بیرسٹر ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم کے تحت اگر صوبائی حکومت کسی وفاقی ادارے کو اختیار دیتی ہے تو اس کی 60 روز میں اسمبلی سے منظوری لینا ضروری ہے لیکن سندھ حکومت ایسا نہ کر کے آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔

سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان اختلافات اُس وقت کھل کر سامنے آئے تھے جب رینجرز نے دہشت گردی کے واقعات کے علاوہ بدعنوانی کے معاملات میں بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

رینجرز نے دعویٰٰ کیا تھا کہ کراچی میں 230 ارب روپے سے زائد رقم غیر قانونی طریقوں سے وصول کی جاتی ہے۔ اس عمل میں سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور اہم شخصیات ملوث ہیں۔

رینجرز نے ان الزامات کے بعد بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور لائنز ایریا ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ پر چھاپے مارے اور بعض ملازمین کو حراست میں لیا، جس پر وزیر اعلیٰ نے ڈی جی رینجرز کو ایک خط تحریر کر کے یاد دہانی کرائی کہ رینجرز نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے ایک خط کے ذریعے رینجرز حکام کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں رہیں اور اختیارات سے تجاوز نہ کریں

تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ حکومت رینجرز کے اختیارات میں اضافہ نہیں چاہتی ورنہ ماضی میں تو مدت پوری ہوتے ہی توسیع کر دی جاتی تھی، لیکن اب اسمبلی میں لے جانے کی بات کی جارہی ہے حالانکہ جب اختیارات میں اضافہ ہوا تھا تب بھی سندھ اسمبلی سے توثیق کرائی گئی تھی اور نہ ہی یہ سندھ اسمبلی کا یہ فیصلہ تھا۔

’موجودہ صورت حال کی وجہ سیاسی ہے انتظامی یا قانونی نہیں۔ پیپلز پارٹی حکومت کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ انھوں نے رینجرز کو جو اختیارات دیے تھے اب وہ خود ان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ کراچی آپریشن میں بہت سے ایسے عوامل بھی شامل ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت بھی غیر مستحکم ہو گی اور جو چند سرگرم لوگ ہیں جن پر بدعنوانی کے مقدمات ہیں وہ بھی سامنے آئیں گے اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

رینجرز کو اختیارات نہ دینے پر حکمران پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعت متحدہ قومی موومنٹ ایک ہی صفحے پر نظر آتے ہیں۔ کراچی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارا گیا اور اس کے سینکڑوں کارکن بھی گرفتار کیے گئے۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ماضی میں بھی رینجرز پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں اور انھوں نے اپنی حالیہ تقریر میں کہا ہے کہ سندھ کو رینجرز کی مزید ضرورت نہیں ہے۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ’وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور سندھ اسمبلی کے تمام ارکان یا توسندھ کو دھرتی ماں کہنا چھوڑ دیں یا پھر وہ مل کر ایک بل پاس کریں کہ اب ہمیں مظلوموں پر ظلم کرنے والی رینجرز نہیں چاہیے۔‘

مشتبہ افراد کو زیر حراست رکھنے کے اختیارات کے علاوہ رواں ماہ ہی رینجرز کے پاس موجود پولیس اختیارات کی مدت بھی ختم ہو جائے گی، اگر ان میں توسیع نہ ہوئی تو قانونی طور پر رینجرز 11 جولائی کے بعد گھروں پر چھاپے نہیں مار سکے گی۔

صوبائی حکومت کی درخواست پر سندھ میں معاونت کے لیے بھیجی گئی بارڈر سکیورٹی فورس رینجرز کی آمد کو رواں سال 20 سال مکمل ہوگئے ہیں۔

ہر سال ان کے قیام میں توسیع کی جاتی رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال یہ مدت 19 جولائی کو ختم ہو جائے گی۔ صوبائی حکومت اس معاملے پر بھی اسمبلی کی رائے چاہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وبائی حکومت کی درخواست پر سندھ میں معاونت کے لیے بھیجی گئی بارڈر سکیورٹی فورس رینجرز کی آمد کو رواں سال 20 سال مکمل ہوگئے ہیں

وفاقی حکومت، دفاعی ادارے اور رینجرز ایک ہی صفحے پر نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال میں وفاقی اور صوبائی حکومت میں ٹکراؤ کا امکانات بھی موجود ہیں۔ اس سے پہلے بھی میاں نواز شریف ہی کی حکومت میں حکیم محمد سعید کے قتل کے بعد اکتوبر 1998 میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔

بیرسٹر ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد گورنر رائج کا نفاذ دشوار ہوگیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 232 میں گورنر راج کی دو وجوہات بیان کی گئی ہیں ایک اندرونی خلفشار دوسرا بیرونی حملہ۔

’صوبے میں اندرونی خلفشار ہو تو سندھ اسمبلی کو ایک قرار منظور کرنا ہو گی کہ وہ گورنر راج نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ ماضی کے برعکس سندھ اسمبلی میں موجودہ وقت حکمران اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم اس نکتے پر متفق ہیں کہ رینجرز کے اختیارات میں اضافہ نہ ہو۔

دوسری صورت میں صدر پاکستان اس وقت صوبے میں گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں جب بیرونی خطرہ ہو، لیکن نفاذ کے دس روز کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ سے الگ الگ منظوری لینا ہو گی۔ اگر حکومت یہ چاہے بھی تو نہیں کر سکتی کیونکہ فی الوقت سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی اکثریت ہے وہاں سے اس کی منظوری ممکن نہیں ہو گی۔‘

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی تمام صورت حال سے بخوبی آگاہ ہے کہ قانونی اور سیاسی طور پر اس کی پوزیشن مستحکم ہے اسی لیے وہ سودے بازی کی بنیاد پر دباؤ سے نکلنے کی خواہش مند ہے۔

اسی بارے میں