’نواز شریف روس میں نریندر مودی سے ملاقات کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نواز شریف اور نریندر مودی ایک سال سے زیادہ کے وقفے کے بعد دو طرفہ بات چیت کریں گے

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف جمعے کو روس میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے موقعے پر اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس ملاقات کی تصدیق کر دی ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ ملاقات بھارتی تجویز پر ہو رہی ہے تاہم اس ملاقات کے ایجنڈے کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں بتایا کہ بھارتی وزیرِ اعظم کے ساتھ بات چیت کے علاوہ اس دورے پر وزیرِ اعظم نواز شریف چین، روس اور افغانستان کے سربراہان کے ساتھ بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا 15واں اجلاس روسی شہر اوفا میں منعقد ہو رہا ہے۔

یورپ اور ایشیا کے ممالک پر مشتمل اس تنظیم کا مقصد اقتصادی، معاشی، اور عسکری امور پر تعاون ہے اور فی الوقت چین، روس، قزاقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان اس کے رکن ہیں جبکہ پاکستان، بھارت، ایران اور افغانستان کو مبصر کا درجہ حاصل ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی ممکنہ رکنیت کے بارے میں کہا کہ ’پاکستان امید کرتا ہے کہ ایس سی او کی رکنیت اصولی طور پر منظور ہو گی، تاہم، ابھی کچھ رسمی کام باقی ہے۔‘

خیال رہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن پہلے ہی بھارت کو آئندہ برس اس تنظیم کی رکنیت دیے جانے کا اعلان کر چکے ہیں۔

پاکستانی اور بھارتی وزارئے اعظم کی ملاقات کے بارے میں قاضی خلیل اللہ نے مزید کہا کہ نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات کے دوران تمام اہم امور پر بات چیت ہو گی۔

انھوں نے ملاقات کے ایجنڈے کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دی البتہ اتنا ضرور کہا کہ ’جب پاکستان اور بھارتی وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات ہوتی ہے تو اس کا اثر تین سطحوں یعنی دو طرفہ تعلقات، خطے اور بین الاقوامی سطح پر ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک تو بہتر تعلقات کے خواہش مند ہیں ہی لیکن بین الاقوامی برادی بھی اس سلسلے میں اتنی ہی دلچسپی رکھتی ہے۔

’عالمی برادری چاہتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل اور تنازعات بات چیت کے ذریعے حل ہوں۔‘

حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے اور 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحمان لکھوی کی رہائی پر کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف اور نریندر مودی کی یہ ملاقات بھارتی تجویز پر ہو رہی ہے

تاہم دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات میں تب نرمی دکھائی دی جب عالمی دباؤ کے بعد ماہِ رمضان کے آغاز پر وزیرِ اعظم نریندر مودی اور نواز شریف کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔

اس کشیدگی کے دوران پاکستان کا اصرار رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تبھی بات چیت کا عمل بحال ہو گا جب بھارت پہلا قدم اٹھائے گا۔

خارجہ امور پر وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات کی بحالی کے لیے دوبارہ رابطہ نہیں کرے گا، اگر بھارت کو پاکستان سے بات کرنی ہے تو اسے پہل کرنا ہو گی۔

ان کا کہنا تھا: ’وزیراعظم نواز شریف کی کوششوں سے یہ مذاکرات بحال ہونے جا رہے تھے جنہیں بھارت نے ختم کرنے کا اعلان کیا اب انھیں دوبارہ بحال کرنے کے لیے بھی پیش قدمی بھارت ہی کو کرنا ہو گی۔ ہم اس سلسلے میں اب بھارت سے کوئی رابطہ نہیں کریں گے۔‘

خیال رہے کہ نواز شریف اور نریندر مودی ایک سال سے زیادہ کے وقفے کے بعد دو طرفہ بات چیت کریں گے۔

ان دونوں رہنماؤں کے درمیان گذشتہ دو طرفہ ملاقات 27 مئی 2014 کو ہوئی تھی، جب مودی نے اپنے حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف سمیت تمام جنوبی ایشیائی ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا تھا۔

اس کے بعد یہ دونوں گذشتہ سال ستمبر میں نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس اور کٹھمنڈو میں جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کے اجلاس میں آمنے سامنے آئے تھے، لیکن دونوں کے درمیان دو طرفہ بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

اسی بارے میں