’سکیورٹی فورسز کے خلاف تقریر پر برطانوی حکام سے بات کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چوہدری نثار نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کے خلاف بدزبانی ناقابل برداشت ہے

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر کڑی تنقید کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ برطانوی حکام سے اس معاملے پر بات کی جائے گی۔

پیر کو وزارتِ داخلہ سے طرف سے جاری ہونے والے بیان میں چوہدری نثار نے کہا کہ گذشتہ روز الطاف حسین کی تقریر اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کر لی گئی ہیں اور اُن کی جانب سے فوج اور رینجرز کے بارے میں نازیبا بیانات سمجھ سے بالاتر ہیں۔

گذشتہ روزایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے نائن زیرو پر ٹیلی فونک خطاب میں کہا تھا کہ ڈی جی رینجرز سندھ وائسرائے کا کردار ادا کررہے ہیں اور وہ فوج کے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

الطاف حسین نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’ہم فوج کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم اس ادارے میں موجود گندے انڈوں کے خلاف ہیں۔ جنرل راحیل کو پاکستان کو محفوظ بنانا چاہیے اور اُن گندے انڈوں کو باہر پھیکنا چاہیے جو اربوں روپے کی کرپشن کرتے ہیں۔‘

اپنے بیان میں وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ الطاف حسین کی جانب سے سکیورٹی اداروں کے خلاف بدترین زبان استعمال کی ہے اور انھوں نے اپنی تقریر میں تہذیب اور شرافت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے اشتعال انگیزی کی انتہا کر دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ الطاف حسین کی جانب سے سکیورٹی اداروں کے خلاف بدترین زبان استعمال کی ہے

وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ الطاف حسین کے معاملے پر ہر طرح سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اب ان کی تقاریر پر برطانیہ سے بات کرنے کا وقت آگیا ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کے خلاف بدزبانی ناقابل برداشت ہے اور بیرون ملک بیٹھے کسی بھی شخِص کو دفاعی اداروں پر انگلیاں اُٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اردو بولنے والی کمیونٹی مہذہب اور تہذیب یافتہ ہے لیکن الطاف حسین اس تضحیک کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ الطاف حسین کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور وہ غصے اور مایوسی میں اپنے ہی اداروں کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کے خلاف لندن میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ زیر سماعت ہے کہ جبکہ پاکستان میں ریجنرز نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیروں چھاپے میں وہاں سے اسلحہ اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسی بارے میں