شمالی وزیرستان میں کارروائی، 14 شدت پسند ہلاک

Image caption خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا

شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے کی گئی جیٹ طیاروں کی بمباری میں اہم کمانڈروں سمیت 14 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق منگل کو شمالی وزیرستان کے علاقے الوارا میں فضائی بمباری کی گئی ہے۔

اس کارروائی کے بعد علاقہ چھوڑ کر جانے والے شدت پسندوں کو ان کے ساتھیوں کی لاشیں لے جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

گذشتہ ماہ پاکستان کی فوج نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب ہونے والی فضائی کارروائیوں میں کئی غیر ملکیوں سمیت 23 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ شمالی وزیرستان میں شوال کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ابتدائی کارروائی کا پہلا مرحلہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب ایک منصوبے کے تحت کامیابی سے جاری ہے اور فوج اسے جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں اس آپریشن کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیتا رہا ہوں۔ اس کی ایک وجہ ہے۔ اس میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ ہمارے اہداف ساتھ ساتھ حاصل ہو رہے ہیں۔ ہم اسے جتنا جلدی ممکن ہو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔‘

شوال کی کارروائی کے بارے میں فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں شدت پسندوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

’شوال دہشت گردوں کا گڑھ بن گیا تھا۔ انہیں کافی نقصان پہنچایا ہے اور تھوڑا بہت ہمیں بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ آگے چل کر مزید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا جو بدستور جاری ہے۔

فوج کے مطابق آپریشن کے نتیجے میں اب تک ایجنسی کا 90 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔ تاہم سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں