سرحدی کشیدگی: ’مذاکرات کی بحالی کی کوششوں پر اثر نہیں پڑے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ماضی میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں تاہم فریقین کے درمیان وقتاً فوقتاً ملاقاتیں ہوئی ہیں‘

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ گولہ باری اور سرحدی کشیدگی کا دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ سے چار پاکستانی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں کہا کہ متنازعہ سرحد پر کشیدگی اور فائرنگ کا گذشتہ ہفتے دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کے درمیان طے پانے والے امور پر منفی اثر نہیں ہو گا۔

’لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اس کے باوجود دونوں ملکوں نے ایک دوسرے سے رابطے رکھے۔ جو ہمارے درمیان تنازعات اور مشکل مسائل ہیں ان سے منہ نہیں موڑا اور ملتے رہے۔ اس بار بھی جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان اوفا میں ہونے والے تمام فیصلوں پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر فائرنگ، چار پاکستانی ہلاک

یاد رہے کہ پاکستانی اور بھارتی وزراعظم نے روسی شہر اوفا میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں اور فوجی حکام کے درمیان ملاقاتوں پر اتفاق کیا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ملکوں کی اعلیٰ ترین قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر اور فوجی حکام کشیدگی کم کرنے اور باصابطہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے بات چیت کریں گے۔ قاضی خلیل اللہ کے مطابق پاکستانی قیادت کا عزم ہے کہ سرحدی کشیدگی یا کسی بھی دوسرے ناخوشگوار واقعے کو مذاکرات کی بحالی کی کوششوں پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔

قاضی خلیل اللہ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں بھارت کے سفیر ڈاکٹر ٹی اے راگھوان کو آج جمعرات کو دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے لائن آف کنٹرول کی مبینہ بھارتی خلاف ورزیوں پر احتجاج کیا گیا۔

’بھارت کی جانب سے حالیہ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اس کے علاوہ ایک بھارتی جاسوس طیارہ پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا بھی مرکب ہوا ہے۔ ان باتوں پر بھارتی سفیر سے باضابطہ احتجاج کیا گیا ہے۔‘

واضح رہے کہ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ کے یہ واقعات ورکنگ باؤنڈری پر چپرار سیکٹر اور لائن آف کنٹرول کے نزدیک نیزہ پیر کے مقامات پر پیش آئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے چپرار سیکٹر میں بدھ کو رات گئے فائرنگ کی۔

اس فائرنگ سے ملانا اور صالح پور نامی دیہات سے تعلق رکھنے والے تین شہری غلام مصطفیٰ، راحت اور بوٹا ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ سے پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر بھی راولا کوٹ کے نزدیک نیزہ پیر سیکٹر میں جمعرات کو بھارتی فوج نے بلااشتعال فائرنگ کی جس سے 18 سالہ زرینہ بی بی ہلاک ہو گئیں۔

اسی بارے میں