سیاسی بے چینی سے کیا دہشت گردی زور پکڑے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس سے قبل رواں سال مارچ میں رینجرز نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارا تھا

پاکستان کے شہر کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے چار ماہ بعد دوسرا چھاپہ مارا ہے مگر اس بار وجہ قطعی مختلف ہے۔

11 مارچ 2015 کو رینجرز کے بقول ’خالصتاً خفیہ اطلاع پر‘ نائن زیرو اور اس کی آس پاس کی عمارتوں پر چھاپے مارے گئے تھے۔

جن میں پانچ سزا یافتہ ملزمان سمیت 60 سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا اور ’نیٹو کے کنٹینروں سے چرایا گیا اسلحہ‘ بھی برآمد کیا گیا مگر اس بار رینجرز کہتی ہے کہ کارروائی کی وجہ نیم فوجی ادارے کے خلاف ’نفرت انگیز تقاریر‘ ہیں۔

رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھی تقاریر کا انتظام کرنے اور اس کے لیے سہولت فراہم کرنے پر ایم کیو ایم کے دو رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے اور’اس طرح کے سہولت کاروں کی فہرست تیار کر لی گئی ہے جس پر مستقبل قریب میں مزید گرفتاریاں عمل میں آئیں گی۔‘

اگرچہ رینجرز نے اپنے بیان میں مقرّر کا نام نہیں لیا مگر ظاہر ہے ان کا اشارہ الطاف حسین کی طرف ہو سکتا ہے جو اپنی حالیہ تقاریر اور بیانات میں رینجرز کے اہلکاروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

بہت سے مبصرین کے لیے یہ بات حیرت انگیز ہو سکتی ہے کہ کسی بھی شہری یا سیاسی جماعت کی کسی سرکاری ادارے کے خلاف تنقیدی رائے کو جرم تصور بھی کیا جاسکتا ہے یا نہیں مگر اس معاملے پر فی الوقت ایم کیو ایم تنہائی کا شکار نظر آتی ہیں۔

چند دن پہلے ہی الطاف حسین کے بیانات کو بنیاد بنا کے ان کے خلاف دارالحکومت اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھی سو سے زیادہ مقدمے درج کیے گئے ہیں جن میں ان پر مسلح افواج اور رینجرز کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

اس سے قبل مارچ میں بھی رینجرز نے الطاف حسین کے خلاف کراچی میں انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ الطاف حسین نے نائن زیرو پر چھاپے کی کارروائی میں شامل رینجرز کے اہلکاروں کو یہ کہہ کر دھمکایا ہے کہ ’وہ تھے ہو جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الطاف حسین نے رینجرز کی تازہ کارروائی کو ’ننگی بربریت‘ قرار دیا ہے

دوسری طرف الطاف حسین اپنے موقف پر قائم نظر آتے ہیں۔ رینجرز کی تازہ کارروائی کو انھوں نے ’ننگی بربریت‘ قرار دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ رینجرز نے صوبے کو مقبوضہ سندھ بنادیا ہے اور آپریشن کا اصل ہدف ایم کیو ایم ہے اور کارکنوں کو گرفتار کرکے ان پر جھوٹے مقدمے بنائے جا رہے ہیں اور زیر حراست کارکنوں کو ماورائے عدالت ہلاک کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت کے فلاحی شعبے کو زکٰوۃ، فطرہ اور عطیات جمع کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

انھوں نے صوبے سے رینجرز کو فوری نکالنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

رینجرز حال ہی میں یہ کہہ چکی ہے کہ ایم کیو ایم کی تنظیمی کمیٹی عسکری ونگ کو منظم کرتی ہے، اسی لیے سیکٹر اور یونٹ انچارجز کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ رینجرز کا یہ بیان اس بات کا اعتراف ہے کہ آپریشن کا ہدف صرف ایم کیو ایم ہے کیونکہ تنظیمی کمیٹی بہت پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔

رینجرز اور ایم کیو ایم کے درمیان جاری اس تلخی پر دوسری سیاسی جماعتوں کا ردعمل بڑی حد تک معنی خیز ہے۔

مرکز اور صوبے پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ نون اور دائیں بازو کی دیگر جماعتیں الطاف حسین کے بیانات کی کھل کے مذمت کر رہی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی سمیت بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی دوسری جماعتیں ایم کیو ایم کے موقف کی حمایت یا مخالفت سے گریزاں نظر آتی ہیں۔

پاکستان میڈیا کے بڑے حصے نے بھی الطاف حسین کے بیانات کو فوجی اور نیم فوجی اداروں کی توہین اور دھمکی سے تعبیر کیا ہے۔

ٹی وی ٹاک شوز میں بیشتر تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ لندن میں بیٹھ کر الطاف حسین جو بیانات دے رہے ہیں اس سے پاکستان کے اندر ان کی جماعت کے لیے مشکلات بڑھی ہیں۔

تاہم ایم کیو ایم کے لندن اور پاکستان میں موجود رہنما اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ اپنے قائد کے بیانات کی بھرپور تائید اور حمایت کر رہے ہیں اور دوسری سیاسی جماعتوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ان کی باری بھی آسکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان کی قیادت نے کئی برسوں بعد اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی ملک کے لیے سب سے سنگین خطرہ ہے

رینجرز نے نائن زیرو پر چھاپہ ایسے وقت مارا ہے جبکہ پچھلے ہفتے تک ہی حکومت سندھ نے رینجرز کو حاصل خصوصی اختیارات میں توسیع کو صوبائی اسمبلی کی تائید سے مشروط کر دیا تھا اور توسیع کی بھی تو صرف ایک ماہ کے لیے۔

کئی تجزیہ کار اس پورے معاملے کو دہشت گردی کے سنگین خطرے اور اس کے خاتمے کے لیے قومی اتفاق رائے کے پس منظر میں بھی دیکھتے ہیں۔

پاکستان کی قیادت نے کئی برسوں بعد اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی ملک کے لیے سب سے سنگین خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے قومی لائحہ عمل پر عمل درامد جاری ہے۔

کراچی سمیت صوبہ سندھ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں اور اس پر سامنے آنے والے سیاسی ردعمل سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف نہ صرف قومی بیانیہ بدلتا نظر آ رہا ہے بلکہ اس کا اثر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قومی مہم پر بھی پڑ سکتا ہے۔

کراچی میں دانشور اور سماجی کارکن سبین محمود کا قتل ہو، صفورا گوٹھ کے قریب اسماعیلی برادری کے لوگوں کا بے رحمانہ اجتماعی قتل یا شکارپور کی امام بارگاہ پر خودکش بم حملہ۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خطرہ بدستور موجود ہے اور صوبے میں سیاسی بے چینی سے اسے تقویت مل سکتی ہے۔

اسی بارے میں