صوابی اور ڈی آئی خان میں حملے، ایس پی سمیت دو اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صوابی میں پولیس نے جائے وقوعہ اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے اضلاع صوابی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس پر ہونے والے دو حملوں میں ایلیٹ فورس کے ایس پی سمیت دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق پہلا واقعہ ضلع صوابی کے گاؤں سلیم خان میں سنیچر کی صبح اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد کی جانب سے ایلیٹ فورس کے ایس پی پر اندھادھند فائرنگ کی گئی جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔

صوابی پولیس کے ترجمان لیاقت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایلیٹ فورس کے ایس پی خیرالخطیب صبح کے وقت مسجد میں نماز ادا کر کےگھر جارہے تھے کہ اس دوران ان پر حملہ کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ پولیس افسر بنوں میں تعینات تھے اور وہ عید منانے کےلیے اپنے آبائی گاؤں صوابی آئے تھے۔

ان کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے اور بعض مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے پولیس افسر تین سال پہلے فوج سے ریٹائرڈ ہوئے تھے جس کے بعد انھیں ایلیٹ فورس میں تعینات کیا گیا تھا۔

یاد رہے کے صوابی میں اس سے پہلے بھی پولیس اہلکاروں پر متعدد مرتبہ حملے کیے گئے ہیں جس میں کئی اہلکار مارے جاچکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحصیل درابن میں واقع فوج اور ایف سی کے کیمپ پر شدت پسندوں کی طرف سے حملےمیں ایلیٹ فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہوا

ادھر دوسری طرف خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلعے ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں ایلیٹ فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا ہے جبکہ جوابی حملے میں دو حملہ آواروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن میں واقع فوج اور ایف سی کے کیمپ پر شدت پسندوں کی طرف سے حملہ کیا گیا جس میں ایلیٹ فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھی جوابی کاروائی کی گئی اور اس دوان دو حملہ آوار مارے گئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رات دیر تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبل کی ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں