آواران میں متعدد عسکریت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کئی برسوں سے خراب ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں سرکاری حکام نے ایک کالعدم تنظیم کے متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے پر اس آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ آپریشن کالعدم تنظیم کے عسکریت پسندوں کے خلاف کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ آپریشن میں کمانڈروں سمیت متعدد عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں اور پانچ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اہلکار نے دعویٰ کیا کہ مارے جانے والے عسکریت پسند فوج کی تعمیراتی کمپنی ’ایف ڈبلیو او‘ کے اہلکاروں اور مزدوروں کو ہلاک کرنے کے علاوہ مستونگ میں مسافروں اور تربت میں مزدوروں کی ہلاکت کے واقعات میں بھی ملوث تھے۔

بلوچستان میں ہونے والے آپریشنز کے بارے میں معلومات زیادہ تر سکیورٹی سے متعلق ادارے فراہم کرتے تھے لیکن اس آپریشن کے بارے میں معلومات محکمۂ داخلہ کی جانب سے فراہم کی گئیں۔

محکمۂ داخلہ کے ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے عسکریت پسند علیحدگی کی سوچ کو تقویت دے رہے تھے۔

دوسری جانب قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ نے اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ آپریشن آواران اور کولواہ کے مختلف علاقوں میں عید کے روز سے جاری ہے ۔بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ’یہ آپریشن عام شہری آبادیوں کے خلاف کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔‘

اسی بارے میں