ایل او سی پر فائرنگ اوفا سمجھوتے کی خلاف ورزی: پاکستان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ماضی میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں تاہم فریقین کے درمیان وقتاً فوقتاً ملاقاتیں ہوئی ہیں‘

پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے ہفتے کو لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کر کے اوفا سمجھوتے کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس سے قبل پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) نے عید الفطر کے موقع پر جموں اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کی ہے۔

ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر فائرنگ، چار پاکستانی ہلاک

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے ہفتے کو نیزہ پیر سیکٹر میں فائرنگ کی گئی جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل عاصم باوجوہ نے کہا ’بھارت ہر تہوار کے موقع پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کے ساتھ ساتھ الزامات بھی عائد کر تا آیا ہے۔‘

ایل او سی کی حالیہ خلاف ورزیوں کا سلسلہ رواں ہفتے اس وقت شروع ہوا جب پاکستان نے سیالکوٹ کے چپرار سیکٹر میں ہندوستانی فائرنگ سے تین شہریوں کی ہلاکت اور پانچ کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے گذشتہ چند روز سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جاری فائرنگ قابل مذمت ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر رات ڈیڑھ بجے سے صبح پونے چھ بجے تک فائرنگ کی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت 2003 کے فائر بندی کے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے راولاکوٹ اور پونچھ سیکٹر پر فائرنگ کی۔ بی ایس ایف نے راکٹ، مارٹر، مشین گنیں اور چھوٹے ہتھیار استعمال کیے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے اس اشتعال انگیز کارروائی پر احتجاج کیا اور یہ کارروائی اوفا اجلاس میں ہونے والی مفاہمت کے منافی ہے۔

اقوام متحدہ کے فوجی مبصر

آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے پاکستان اور بھارت کے لیے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تحقیقات کی درخواست کر دی ہے۔

آئی ایس پی آر نے ایک اعلامیے میں کہا کہ پاکستانی فوج نے مبصر گروپ کو بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی رجسٹر کروا دی ہے۔

پاکستان اقوام متحدہ کے مبصر گروپ سے بھارتی خلاف ورزیوں پر متعدد بار احتجاج کرچکا ہے تاہم بھارت اس گروپ کو تسلیم نہیں کرتا۔

بھارت کا موقف ہے کہ 1972 کے شملہ معاہدے کے بعد جنگ بندی کے لیے فوج مبصرین کی ضرورت نہیں۔

اسی بارے میں