’دو مزید تودے گرے، اپنے آپ کو بچایا‘

تصویر کے کاپی رائٹ chrisjensenburke.com
Image caption ’لاپتہ ہونے والے پاکستانی پورٹر نے بیس کیمپ پر موجود ہر شخص کو متاثر کیا تھا‘

پاکستان اور چین کے سرحدی علاقے میں واقع قراقرم پہاڑی سلسلے میں سات کوہ پیماؤں پر مشتمل ایک ٹیم منگل کی صبح برفانی تودے کی زد میں آگئی جس کے بعد ایک پاکستانی کوہ پیما لاپتہ ہے جبکہ دیگر زخمی حالت میں بیس کیمپ واپس پہنچے ہیں۔

قراقرم پہاڑی سلسلے میں براڈ پیک نامی پہاڑ پر پاکستانی، جاپانی اور چین کے سات کوہ پیماؤں پر مشتمل یہ ٹیم برفانی تودے کی زد میں آگئی۔ کوہ پیماؤں کی ٹیم کے اراکین ہسپتال پہنچائے جانے کے لیے ریسکیو ٹیم کا انتظار کر رہے ہیں۔

براڈ پیک پر موجود کوہ پیماؤں کی دیگر ٹیموں میں سے ایک ٹیم میں شامل کرس برک نے براڈ پیک کے واقعے کے بارے میں بلاگ لکھا ہے۔

کرس جینسن برک پہلی نیوزی لینڈ یا آسٹریلیا کی خاتون کوہ پیما ہیں جنھوں نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو، دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی لہوٹسے، پانچویں بلند ترین چوٹی مکالو اور 11 ویں بلند ترین چوٹی گیشربرم 1 کو سر کیا ہے۔

’20 تاریخ کی صبح براڈ پیک پر ایک حادثہ ہوا جب برفانی تودہ پہاڑ کے نچلے حصے پر چوٹی سر کرنے کی کوشش میں سات کوہ پیماؤں پر آ گرا۔ جس وقت میں یہ لکھ رہا ہوں اس وقت تلاش کے باوجود ایک کوہ پیما لاپتہ ہے۔

’لکپا کو اس حادثے کے فوری بعد ایک زخمی کوہ پیما سے ریڈیو پیغام موصول ہوا۔ لکپا اور ہمارے اور آس پاس کے دیگر کیمپوں سے لوگ جائے حادثہ پر پہنچے تاکہ زخمیوں کو ریسکیوں کیا جا سکے۔ ہمارے ایک دوست کی قسمت اچھی تھی کہ اس کے جسم کا ایک حصہ تودے سے باہر نظر آ رہا تھے جس کے باعث اس کو تودے سے نکالا جانا ممکن ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ chrisjensenburke.com
Image caption مارگریٹ اور لکپا 19 جولائی کو سی ٹو کیمپ پر

’ان کوہ پیماؤں کی ٹیم میں جو شدید زخمی ہے اس کے بارے میں خدشہ ہے کہ کئی فریکچر ہوئے ہیں۔ لکپا اس کوہ پیما تک پہنچا اور ابتدائی طبی امداد دی۔ لکپا اور دیگر مغربی کوہ پیما اس کو کریمپن پوائنٹ تک لے کر آئے جہاں اس کو ڈاکٹر نے مزید طبی امداد دی۔ لکپا کا کہنا ہے کہ جس وقت زخمی کوہ پیما کو نیچے لے کر آیا جا رہا تھا تو اس وقت بھی دو برفانی تودے گرے ہیں اور ان کو اپنے آپ کو بچانا پڑا۔

’جب کچھ کوہ پیما واپس بیس پر پہنچے ہیں تو انھوں نے لکپا کو ایک ہیرو قرار دیا۔ تاہم لکپا کو یہ بات پسند نہیں آئے گی۔ لکپا صرف وہ کر رہا تھا جو اس کو آتا ہے اور بہترین آتا ہے۔ میں اور مارگریٹ بیس کیمپ پر ہی رہے کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ کریمپن اور اس کے نچلے بیس پر موجود کوہ پیما کافی ہوں گے۔ (اس کے علاوہ کچھ کوہ پیما کے ٹو بیس کیمپ سے بھی نیچے آ رہے تھے۔) میں نے اور دیگر افراد نے ریڈیو سے رابطہ رکھا جو کو اس وقت ضرورت تھی۔ میں نے اور مارگریٹ نے پہلے نیپالی شرپا کو طبی امداد دی جس کو بیس کیمپ لایا گیا۔

’زخمیوں کو کیمپ سے لے کر جانے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹرں کو بلوانے کی کوششیں ناکام رہیں۔ رپورٹس کے مطابق فوج کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی پرواز کے لیے موسم سازگار نہیں ہے (ہماری اطلاعات کے مطابق ایک ہیلی کاپٹر نے کوشش کی تھی)۔ اس لیے ہمیں امید ہے کہ ان افراد کو کل (بدھ) کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا جائے گا۔ مجھے زیادہ فکر نیپالی شرپا کی ہے کہ اس کو ہیلی کاپٹر سے لے جایا جائے۔ میں نے اس کا بندوبست کیا ہے کہ جس کمپنی کے ساتھ یہ شرپا کام کر رہا تھا اس کو پیغام بھیجا جائے کہ وہ اس کو لے جانے کی کوششیں کریں۔ اور امید ہے کہ جو بھی کاغذی کارروائی کرنی ہے وہ بدھ کی صبح تک ہو جائے گی۔

’وہ کوہ پیما جو لاپتہ ہے جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ہلاک ہو گیا ہے وہ ایک پاکستانی پورٹر ہے جو بیس کیمپ پر ایک دوسری ٹیم کے ساتھ تھا۔ میں اس کا نام ظاہر نہیں کروں گی کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کے خاندان کو اب تک مطلع نہ کیا گیا ہو۔ اس کا نام متعلقہ حکام ہی ظاہر کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ chrisjensenburke.com
Image caption براڈ پیک پر موجود کوہ پیماؤں کی دیگر ٹیموں میں سے ایک ٹیم میں شامل کرس برک نے براڈ پیک کے واقعے کے بارے میں بلاگ لکھا ہے

’گذشتہ روز وہ ایک کوہ پیما کا سامان کریمپن پوائنٹ سے لایا تھا اور میں نے بیس کیمپ کا 20 منٹ کا سفر اسی کے ساتھ طے کیا تھا۔ ہم پگھلتی ہوئی برف کے ایک حصے پر پہنچے اور ہمیں ندی کو پار کرنا تھا۔ اس نے اپنے پیروں سے برف کو توڑنا شروع کیا تاکہ جگہ بنے جہاں ہم پیر رکھ کر اس خلیج کو پار کر سکیں۔بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اور ندی پار کی۔ اس کے بعد ہم نے کچھ مزید منٹ اکٹھے سفر طے کیا۔ اس نے بیس کیمپ پر موجود ہر شخص کو متاثر کیا تھا۔

’دوپہر کے وقت بلندی پر جانے والے پورٹر بیس کیمپ پر اپنے کھوئے ہوئے ساتھی کے لیے دعا کے لیے اکٹھے ہوئے۔ بدھ کو بہت سے لوگ اس پورٹر کی تلاش کرنے کے لیے نکلیں گے۔

’ان پہاڑوں پر ہم کو برفانی تودے گرنے کی آوازیں آتی رہتی ہیں۔ گذشتہ رات ہی کی بات ہے کہ پہاڑ سے واپس آنے پر بیس کیمپ پر کھانے کی میز پر ہم برف اور آنے والے دنوں کی موسمی پیشن گوئی کی صورتحال پر بات کر رہے تھے۔ ہم کھانے کی میز سے سے اپنے بستروں پر جانے کے لیے اٹھے تو اسی وقت کافی مقدار میں برف گری اور تمام رات گرتی رہی۔ کئی موقعوں پر تو اتنی زیادہ برف گری کہ ایسا لگتا تھا بارش ہو رہی ہے۔

’میں جب صبح اٹھی تو دوسری ٹیموں کے کوہ پیما چوٹی سر کرنے کی کوشش میں گلیشییرز میں اپنے سفر کو نکل چکے تھے۔‘

اسی بارے میں