چترال آفت زدہ قرار، ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption سڑکوں اور پلوں کی تباہی کی وجہ سے وادی کالاش، گرم چشمہ اور چترال بالا کا چترال سے رابطے منقطع ہو گیا ہے

وزیراعظم نواز شریف نے سیلاب سے متاثرہ چترال کا دورہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے امدادی کاموں کے لیے پچاس کروڑ روپے کی رقم کا اعلان کیا ہے اور اتنی ہی امدادی رقم خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت دے گی۔

وزیراعظم نواز شریف نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے چترال ضلع کو آفت زدہ قرار دیے جانے کے لیے پیشِ نظر زرعی ترقیاتی بینک کے تمام قرضاجات معاف کر دیے گئے ہیں۔ اس موقعے پر خیبرپختونخواہ کے گورنر سردار مہتاب احمد اور وزیر اطلاعات پرویز رشید وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

ادھر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں لگ بھگ تین لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور اب ان کا رابطہ دیگر علاقوں سے منقطع ہو چکا ہے۔

اس سے قبل پی ڈی ایم اے نے بتایا تھا کہ حالیہ بارشوں کے باعث چترال میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تازہ ترین بیان کے مطابق منقطع علاقوں میں بالائی چترال میں تقریباً دو لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، گرم چشمہ میں ساٹھ ہزار اور کالاش ویلی میں پچیس افراد موجود ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر فوری طور پر رابطہ سڑکوں کو بحال نہ لیا گیا تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ گرم چشمہ سے ایک متاثرہ شخص انور بیگ نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ اُن کی تیار فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گندم اور آلو کی فصل منڈی میں لے جانے لے لیے تیار پڑی تھی جبکہ مٹر اور دیگر پھلوں کے لیے زمین تیار کی جا سکی تھی اور اب کسانوں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا خطرہ ہے۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ساحلی شہر کراچی میں اگلے چند دنوں میں مون سون کی مزید بارشوں کے نتیجے میں اربن فلڈ یا شہری سیلاب آ سکتا ہے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق یہ تباہی گلیشیئر میں بنی ندیوں کے پھٹنے کے باعث ہوئی ہے جس سے سڑکیں تباہ ہوئیں، دیہات اور پُل بہہ گئے اور املاک کے علاوہ کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پی ڈی ایم اے کی تازہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چترال میں گلیشیئر میں بنی ندیوں کے پھٹنے اور اس کے ساتھ طغیانی آنا غیر معمولی ہے تاہم موسمی تبدیلی کی وجہ سے صوبے کے شمالی اضلاع میں ایسے واقعات ہوتے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اب تک تین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم اس علاقے تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے مکمل معلومات موصول نہیں ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سڑکوں اور پلوں کی تباہی کی وجہ سے وادی کالاش، گرم چشمہ اور چترال بالا کا چترال سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ وادی کالاش میں 25 ہزار، گرم چشمہ میں 60 ہزار اور چترال بالا جس میں بونی، مستوج، ملکو، تورکو اور یرخون شامل ہیں میں دو لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں کا رابطہ چترال سے گذشتہ ایک ہفتے سے منقطع ہے اور اگر یہ رابطہ بحال نہ ہوا تو ان علاقوں میں خوراک کی قلت ممکن ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سڑکوں اور پلوں کی ابتدائی مرمت کے لیے چترال کی مقامی انتظامیہ نے دس کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ چترال میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے 33 پل بہہ گئے ہیں جبکہ کئی سڑکوں کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فوج اور ایف سی کی جانب سے دو ہیلی کاپٹر کے ذریعے چترال میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں تک کھانے پینے کے سامان کا آٹھ ٹن پہنچا دیا گیا ہے جبکہ 50 افراد کو بھی بچایا گیا ہے۔

این ڈی ایم کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کے ضلع لیہ میں 70 گاؤں، راجن پور میں 50 اور مظفرگڑھ کے 10 گاؤں زیرِ آب آئے ہیں۔

’کراچی میں سیلاب کا خدشہ‘

نامہ نگار احمد رضا کے مطابق پاکستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ساحلی شہر کراچی میں اگلے چند دنوں میں مون سون کی مزید بارشوں کے نتیجے میں اربن فلڈ یا شہری سیلاب آ سکتا ہے جس سے شہر کی ندیوں اور نالوں کے ساتھ ساتھ آباد گنجان بستیوں کے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کراچی میں محکمہ موسمیات کے اہلکار نعیم شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شہر کا کنکریٹ سرفیس (پختہ تعمیرات) بڑھ گیا ہے پھر جو ندی نالے ہیں ان پر بھی تجاوزات بن گئی ہیں اور پانی کے نکاسی کا کوئی انتظام نہیں تو اگر 30 ملی میٹر بھی بارش ہوگئی تو سیلاب آجائے گا اور اسے سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔‘

کراچی میں منگل کو مون سون کی پہلی بارش ہوئی جو کئی علاقوں میں آدھے سے ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کم سے کم ایک اعشاریہ چار اور زیادہ سے زیادہ بارہ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

نعیم شاہ نے بتایا کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ ہلکی بارش تھی مگر جمعرات سے لے کر اتوار تک شدید بارشوں کا امکان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں جمعرات سے لے کر اتوار تک شدید بارشوں کا امکان ہے( فائل فوٹو)

انھوں نے کہا کہ شہر میں پچھلے بیس تیس برسوں میں نکاسی آب کی قدرتی گزرگاہوں پر آبادیاں بن گئی ہیں جس کی وجہ سے اربن فلڈنگ کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔

نعیم شاہ نے کہا کہ ان کے محکمے نے کمشنر کراچی سے کہا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلاب کے خدشے کے پیش نظر لیاری اور ملیر کی ندیوں اور برساتی نالوں کے ساتھ ساتھ آباد لوگوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کریں اور نکاسی آب کے پمپوں کا بھی انتظام کر لیں۔

دوسری طرف کراچی کی انتظامیہ نے شہر میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے خطرے کے پیش نظر برساتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم ندیوں اور نالوں پر بنی ہوئی غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کوئی کارروائی شروع نہیں کی گئی ہے۔

ادھر صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے شاہ نوارانی میں گذشتہ شب سیلابی ریلے میں متعدد افراد بہہ گئے ہیں جن میں سے چار افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق مختلف علاقوں میں بارشوں کے باعث شاہ نورانی کے علاقے میں ندی نالوں میں طغیانی آئی تھی۔ ہلاک ہونے والے افراد شاہ نورانی سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک پل سے گزرنے والے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔

پی ڈی ایم کے مطابق تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بہہ جانے والے افراد کی تعداد کتنی ہے لیکن ان کو نکالنے کے لیے ریسکیو کا کام جاری ہے۔ تاہم بعض دیگر اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد 8 تھی۔

پی ڈی ایم کا کہنا ہے حالیہ بارشوں کے باعث صوبے میں تین افراد ہلاک جبکہ مجموعی طور پر 106 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں