ایم کیو ایم کے رہنما قمر منصور جسمانی ریمانڈ پر رینجرز کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رینجرز نےگذشتہ ہفتے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رات دیر گئے دوبارہ چھاپا مارا تھا

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما قمر منصور کو 90 دن کے جسمانی ریمانڈ پر رینجرز کے حوالے کردیا ہے۔

رینجرز نے بدھ کو ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن قمر منصور کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔

سیاسی بے چینی سے کیا دہشت گردی زور پکڑے گی؟

ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کی ضمانت پر رہائی

رینجرز نے عدالت میں استدعا کی کہ’نفرت انگیز تقاریر کے لیے انتظامات کرنے اور سہولت پہنچانے کے الزامات‘ کی تفتیش کے لیے ملزم کا ریمانڈ دیا جائے۔

عدالت نے قمر منصور کو رینجرز کی تحویل میں دیتے ہوئے یہ حکم بھی دیا کہ ان کی میڈیکل رپورٹ اسی ہفتے عدالت میں پیش کی جائے۔

ادھر الطاف حسین نے قمر منصور کے 90 روز کے ریمانڈ پر رینجرز کی تحویل میں دیے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

لندن سے جاری کردہ ایک بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ ’قمرمنصور کو آج منہ پرکپڑا ڈال کر خطرناک مجرموں کی طرح عدالت میں لایا گیا۔‘

الطاف حسین نے کہا کہ ’یہ کون سا انصاف ہے کہ جن مذہبی انتہا پسند دہشت گردوں نے فوجیوں کے گلے کاٹے، پورے ملک میں دہشت گردی کا بازارگرم کیا، نوجوانوں کو کھلے عام خودکش حملوں کی ترغیب دی، ملک میں قتل و قتال کا کلچر عام کرنے کی باتیں کیں، وہ دھندناتے پھر رہے ہیں۔‘

انھوں نے سکیورٹی سٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنھوں نے فوج کے جرنیلوں کے لیے غلط زبان استعمال کی اور ان کی قربانیوں کا کھلے عام مذاق اڑایا وہ اسٹیبلشمنٹ کے منظورِ نظر ہیں جبکہ ایم کیوایم کے رہنماؤں، منتخب نمائندوں، ذمہ داروں اور کارکنوں پر جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں اورگرفتار کر کے انھیں سرکاری حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

رینجرز نےگذشتہ ہفتے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رات دیر گئے دوبارہ چھاپا مارا تھا اور انچارج رابطہ کمیٹی کیف الویٰ اور قمر منصور کو حراست میں لیا تھا۔

ان دونوں کو حراست میں لیے جانے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا لیکن انچارج رابطہ کمیٹی کیف الویٰ کو جمعے کی شام ہی اس ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا کہ وہ عید کے بعد رینجر کو رپورٹ کریں گے۔

اس سے قبل رینجرز نے 11 مارچ کو کراچی کے علاقے عزیز آباد میں واقع پارٹی کے صدر دفتر نائن زیرو پر چھاپے کے دوران پارٹی کے رہنما عامر خان کو بھی گرفتار کیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران 60 سے زیادہ دیگر مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے بیشتر کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

اسی بارے میں