اشتہار برائے وزیرِ خارجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں نواز شریف حکومت کے دو برس کی تکمیل کے باوجود کل الوقتی وزیرِ خارجہ نہیں ہے

میرے پیارے پاکستانیو!

پاکستان کا محکمہ خارجہ 68 برس سے ملک کو درپیش خارجی چیلنجوں سے نمٹ رہا ہے۔

اب تک اس محکمے کی رہنمائی سر ظفر اللہ خان اور محمد علی بوگرہ سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو اور صاحبزادہ یعقوب خان تک اور پھر خورشید محمود قصوری سے حنا ربانی کھر تک 23 سرکردہ ماہرین و اکابرین نے کی ہے۔

محکمہ خارجہ میں لگ بھگ 500 کیرئر ڈپلومیٹ اپنے فرائض تندہی اور قابلیت سے انجام دے رہے ہیں۔ خدا کے فضل و کرم سے 90 سے زائد ممالک میں پاکستان کے سفارتخانے قائم ہیں۔ان کے ساتھ ساتھ امریکہ ، کینیڈا ، برطانیہ ، خلیجی ریاستوں ، ایران اور افغانستان سمیت کئی ممالک میں دو درجن سے زائد قونصل خانے بھی پاکستان کا وقار بلند کر رہے ہیں۔ کئی ممالک میں اعزازی سفیر اور قونصل جنرل بھی متحرک ہیں۔

اس وقت پاکستان کو پانچوں جانب سے جن سٹریٹیجک، عسکری اور سفارتی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایران اور مغرب کے جوہری سمجھوتے اور شام کی خانہ جنگی اور یمن کی صورتحال کے سبب جس طرح مشرقِ وسطی کا نقشہ اتھل پتھل ہو رہا ہے۔

ہمسایہ ملک بھارت میں مودی حکومت علاقائی و بین الاقوامی محاذ پر جیسی پھرتیاں دکھا رہی ہے، افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے نتیجے میں طالبان اور کابل حکومت کے مابین کسی جامع سمجھوتے کی جس قدر فوری ضرورت ہے۔

چین اور پاکستان کے تعلقات میں اقتصادی و سیاسی گرمجوشی برقرار رکھنے کے لیے جو مہارت، اپچ اور توانائی درکار ہے اور سب سے اہم پاکستان کا بین الاقوامی امیج بہتر بنانے کے لیے جو تخلیقی صلاحیت چاہیے اس کے پیشِ نظر ایک ایسے کل وقتی ذہین و موقع شناس وزیرِ خارجہ کی فوری ضرورت ہے جو میرا اور چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا مشترکہ بوجھ ہلکا کر سکے۔

ویسے تو جواہر لال نہرو، جنرل یحییٰ خان اور بھٹو صاحب اپنے وزیرِ خارجہ خود ہی تھے لیکن نہرو جی نے یہ قلمدان ہوتے ہوئے بھی سنہ 62 کی انڈو چائنا جنگ ہاری، یحیٰی خان نے اس قلمدان کو اپنے سینے سے لگایا مگر پاکستان کا سینہ شقّ کر دیا اور بھٹو صاحب کی خارجہ مہارت بھی انہیں معزولی اور پھانسی سے نہ بچا سکی۔

چنانچہ آپ میں سے کئی لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ جب میں نے پچھلے دورِ حکومت میں گوہر ایوب اور پھر سرتاج عزیز پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں کل وقتی وزیرِ خارجہ رکھا تو اس بار کیا قباحت ہے کہ حنا ربانی کھر کے بعد سے پاکستان کو گذشتہ ڈھائی برس سے کوئی ایسا مناسب شخص میسر نہ آ سکا جو یہ بھاری پتھر چوم سکے؟

مجھے شوق نہیں کہ وزراتِ خارجہ کا قلمدان اپنے پاس رکھوں ورنہ میں اس وقت آپ سے مخاطب ہی کیوں ہوتا۔ بات یہ ہے کہ گوہر ایوب صاحب برے آدمی نہیں مگر کیا کیا جائے کہ وہ برے وقت میں پارٹی چھوڑ کر ق لیگ میں چلے گئے۔ اب میں کس منہ سے اًس منہ سے بات کروں؟

جہاں تک سرتاج عزیز کا معاملہ ہے تو یقیناً انہیں مشیرِ خارجہ کے عہدے سے ترقی دے کر مکمل وزیرِ خارجہ بنانے میں کوئی قباحت نہیں مگر جب بھی اس بارے میں کسی فیصلے پر پہنچنے لگتا ہوں تو برادرِ خورد شہباز شریف یاد دلا دیتے ہیں کہ’پائی جان بابا جی 12 اکتوبر انیس سو نڑیہنوے نوں وی وزیرِ خارجہ سن ۔اینہاں نے اس ویلے کی پٹ لیا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حنا ربانی کھر گذشتہ دورِ حکومت میں وزیرِ خارجہ کی ذمہ داریاں ادا کرتی رہی تھیں

اس کے بعد میرے زخم بھی ہرے ہوجاتے ہیں اور میں اپنا فیصلہ ملتوی کردیتا ہوں۔

لیکن اب جبکہ میری مدتِ اقتدار آدھی گذر چکی اور ہر ایرا غیرا منہ کو آ رہا ہے تو میں نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ آپ سے براہ راست رجوع کروں۔

چونکہ میری حکومت میرٹ پر یقین رکھتی ہے لہذٰا نیا وزیرِ خارجہ بھی اسی اصول کے تحت درکار ہے۔ ویسے تو ڈپلومیٹک کور میں ایک سے ایک تجربہ کار کھڑپینچ پڑا ہے مگر ان میں سے بیشتر اچھے منتظم ضرور ہیں لیکن ان میں تخلیقی اپچ کی کمی ہے اور پھر محکمے میں سے کسی ڈپلومیٹ کو ترقی دینے سے سینیئر جونیئر کی بحث بھی چھڑ سکتی ہے جس سے محکمے کی کارکردگی اور متاثر ہوگی۔

اس کا ایک ہی علاج ہے کہ باہر سے درخواستیں طلب کی جائیں۔

پاکستان کے تمام شہری جو اکہری شہریت رکھتے ہیں۔ وزیرِ خارجہ کی آسامی کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ عمر کی قید نہیں مگر امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی مستند یونیورسٹی کا گریجویٹ ہو، اردو اور انگریزی میں مناسب مہارت رکھتا ہو ( دیگر زبانوں میں مہارت اضافی تصور ہوگی)، خوش لباس و ہنس مکھ ہو، عالمی جغرافیے اور حالاتِ حاضرہ سے کماحقہہ واقف ہو، سیر سپاٹے کا شوقین ہو، بست ہوجائے تو ماتھے پر شکن نہ آئے۔ مطالعے کا بھلے رسیا نہ ہو مگر کم ازکم ایک اخبار ضرور پڑھتا ہو نیز شارٹ ہینڈ جانتا ہو تاکہ آسانی سے فوری ڈکٹیشن لے سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو بھی پاکستان کے وزیرِ خارجہ کے عہدے پر فائز رہے

انٹرویو بورڈ چار افراد پر مشتمل ہوگا یعنی وزیرِ اعظم، وفاقی یونٹوں کا ایک نمائندہ ( وزیرِ اعلیٰ پنجاب)، ڈی جی آئی ایس آئی اور چیف آف آرمی سٹاف۔ بعد از تقرری بھی امیدوار جملہ امور کے لیے اسی بورڈ کو جوابدہ ہوگا۔

درخواست دینے کی آخری تاریخ بوجوہ مقرر نہیں کی جا رہی۔ اصل مقصد مناسب امیدوار کی تلاش ہے لہذا حتمی تاریخ دینے سے بہتر ہے کہ میں انتظار کروں اور تب تک ملک و قوم کے مفاد میں وزارتِ خارجہ کا قلمدان سنبھالے رہوں۔

آخر میں پھر وضاحت کرنا چاہوں گا کہ مجھے زیادہ سے زیادہ اختیارات جمع کرنے کا کوئی شوق نہیں۔ورنہ وفاقی و پانی و بجلی خواجہ محمد آصف کو دفاع اور وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کو وزارتِ قانون نہ تھماتا۔

اب آپ یہ جگت نہ مار دیجئے گا کہ وزیرِ خارجہ رکھو نہ رکھو دیگر قلمدانوں کے جوڑے تو ٹھیک کر لو۔

جب تک امورِ خارجہ کے حساس اور ٹیکنیکل قلمدان کی رکھوالی کے لیے کم ازکم اسحاق ڈار جیسا کوئی فرض شناس، وفادار اور چوہدری نثار علی خاں جیسا قابل امیدوار نہیں مل جاتا۔ مجھے ہی وزارتِ خارجہ کو چار و ناچار دیکھنا پڑے گا۔

امیدوار اپنی درخواستیں دفترِ خارجہ کے بجائے براہ راست وزیرِاعظم سیکرٹیریٹ بھیجیں اور لفافے پر صاف صاف لکھیں ’باملاحظہ وزیرِ خارجہ پاکستان معرفت وزیرِ اعظم پاکستان۔‘

خدا آپ کا حامی و ناصر ہو، پاکستان پائندہ باد۔

اسی بارے میں