’بلوچوں کے ہتھیار ایک فکر اور نظریے کے پابند ہیں‘

Image caption اللہ نذر بلوچ کے مطابق بلوچ قوم کی حفاظت اور بلوچ سرزمین کا دفاع ان کا اولین فرض ہے

بلوچستان میں آزادی پسند تحریک کے سب سے متحرک دھڑے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے حکومت پاکستان کی غیر مسلح ہونے کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچوں کے ہتھیار ایک فکر اور نظریے کے پابند ہیں۔

بلوچستان کی سیاسی اور عسکری قیادت پر مشتمل ایپکس کمیٹی نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ جو نوجوان ریاست کے خلاف مسلح کارروائی ترک کرنے کا یقین دلائیں گے انھیں عام معافی دی جائے گی۔

اس فیصلے کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی تائید کی تھی۔

بلوچستان میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے آبائی ضلعے آواران اور بالخصوص ان کے رہائشی علاقے مشکے میں گزشتہ کچھ عرصے سے جاری آپریشن میں شدت آئی ہے، جس میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے بھائی اور بھتیجے سمیت متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جنہیں ایف سی نے شدت پسند قرار دیا تھا۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ جنرل راحیل شریف کی جو بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت ہے، انہوں نے خود کو بلوچستان کی قومی آزادی کی جنگ سے بے خبر رکھنے کی کوشش کی ہے انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ ایک نظریاتی جنگ ہے۔ بلوچوں نے جو ہتھیار اٹھائے ہیں وہ ایک فکر اور ایک نظریے کے پابند ہے اور نظریہ ختم نہیں ہو سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایپکس کمیٹی نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ جو نوجوان ریاست کے خلاف مسلح کارروائی ترک کرنے کا یقین دلائیں گے انھیں عام معافی دی جائے گی

’آزادی بلوچ کا تاریخی حق ہے اور ایک کڑوا سچ ہے۔ جنرل راحیل شریف اور ان کی حکومت کے جو اتحادی ہیں انھیں یہ سچ تسلیم کرنا چاہیے۔‘

پاکستان اور چین کے درمیان زیر تعمیر اقتصادی راہداری کو ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے بلوچستان کی تاریخی، جغرافیائی اور لسانی شناخت کو ختم کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچوں کو یہ منصوبہ قابل قبول نہیں ہے اور چین کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہاں ایک آزاد قوم رہتی ہے، جس کی تاریخی شناخت ہے اور اس کی مرضی و منشا کے بغیر کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا لہٰذا چین اپنا سرمایہ بلوچستان کے بجائے کہیں اور لگائے تاکہ اس کا سرمایہ محفوظ رہے۔‘

اس سوال پر کہ پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ امریکہ اور بھارت اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف ہیں اور ان کی مخالفت سے وہ مستفید ہوں گے ، اللہ نذر بلوچ کا کہنا تھا کہ ان کی مخالفت سے انڈیا کو فائدہ ہو یا امریکہ کو اس سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption پاکستان اور چین کے درمیان زیر تعمیر اقتصادی راہداری کو ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے بلوچستان کی تاریخی، جغرافیائی اور لسانی شناخت کو ختم کرنے کا ذریعہ قرار دیا

انھوں نے کہا کہ بلوچ قوم کی حفاظت اور بلوچ سرزمین کا دفاع ان کا اولین فرض ہے اور ویسے بھی یہ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ افغانستان، انڈیا اور امریکہ بلوچوں کی مدد کر رہے ہیں لیکن یہاں ان کی مدد کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

’ہمیں خوشی ہے کہ ایک قوم کی حیثیت سے دوسرے ممالک اور دوسری اقوام کے مفادات ہم سے جڑے ہیں۔ اگر چین کو بھی یہ احساس ہو جائے کہ بلوچ کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتا، جو سرمایہ کاری کی جا رہی ہے اور بلوچوں کو نیست و نابود کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں اگر چین اس کی مخالف کرے تو ہم اس کو بھی خوش آمدید کہیں گے۔‘

بلوچستان میں صوبائی وزیر ثنا اللہ زہری اور جنگیز مری کے روبرو بعض عسکریت پسندوں کے ہتھیار ڈالنے کے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہنا ہے کہ ثنا اللہ اور جنگیز اس ریس میں لگے ہوئے ہیں کہ کیسے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ کی نشست پر بیٹھیں۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ’جن لوگوں کو دکھایا گیا ہے وہ پہلے ہی ان کے بندے ہیں اور ڈیتھ سکواڈ میں شامل تھے اس سے بلوچستان کی قومی آزادی کی جنگ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘

حکومت پاکستان کی جانب سے خان آف قلات سلیمان داؤد سے مذاکرات کے لیے وفد کی تشکیل اور انھیں وطن واپسی کی بھی پیشکشپر تبصرہ کرتے ہوئے بی ایل ایف کے سربراہ نے کہا کہ ’سلیمان داؤد کا بلوچستان کی قومی آزادی کی جنگ میں کوئی حصہ ہے نہ تھا لہذٰا وہ واپس آئیں یا باہر رہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اسی طرح تاریخ پر بھی کوئی منفی یا مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے آبائی ضلعے آواران اور بالخصوص ان کے رہائشی علاقے مشکے میں گزشتہ کچھ عرصے سے جاری آپریشن میں شدت آئی ہے

بیرون ملک جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے بلوچ سرداروں براہمداغ بگٹی، حربیار مری اور مہران مری کے درمیان اختلاف کی بازگشت کے بارے میں ڈاکٹر اللہ نذر کا کہنا ہے کہ یہ لوگ بلوچستان کی قومی آزادی کی جنگ کے چہرے ہیں اور وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ لوگ بھٹک گئے ہیں البتہ شاید انھیں اپنے مشترکہ مقصد اور مشترکہ قومی دشمن کو سمجھنے میں تھوڑی دقت درپیش ہے۔

’یہ اکابرین بلوچ سر زمین سے بہت دور ہیں۔ مشترکہ دشمن کی جو سازشیں ہیں شاید ان کو سمجھنے میں انہیں کچھ مشکلات پیش آ رہی ہیں ورنہ ہم بہت پہلے سے ہی قومی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، جس میں بلوچ نوجوان شہید ہو رہے ہیں۔ جو لوگ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کا حصہ ہیں اور ہمدردی رکھتے ہیں نہ ان کے آپریشن میں کمی آئی ہے اور نہ ریاستی مظالم کم ہوئے ہیں۔‘

بلوچستان کے علاقے تربت میں حال ہی میں غریب اور مزدور پنجابیوں کو نشانہ بنانے کے بارے میں سوال کے جواب ڈاکٹر اللہ نذر کا کہنا تھا کہ انہوں نے غریب اور مزدور پنجابیوں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا اور تربت میں ہلاک ہونے والے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے لیے کام کر رہے تھے۔

’بلوچ قومی آزادی کے خلاف جو ریاست کا آلۂ کار بنے گا اور استحصال میں شریک ہوگا پھر چاہے وہ بلوچ ہو، پنجابی ہو، سندھی ہو یا پشتون ہو، اس کو بلوچ معاف نہیں کرے گا۔‘

بلوچستان میں تعلیم کی بدحالی میں آزادی پسند تنظیموں کے کردار کو انھوں نے مسترد کیا اور کہا کہ خود ریاست نے تعلیم کو تباہ کیا ہے ایسے کئی سکول اور کالج ہیں جہاں فوج نے چوکیاں بنائی ہوئی ہیں اور انھوں نے تو خود اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی قوم کو پڑھائیں گو کہ یہ نو آبادیاتی نصاب ہے۔

اسی بارے میں