’کمیشن کا فیصلہ قبول ہے مگر تبصرہ رپورٹ پڑھ کر کروں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 2013 کے عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرے

عدالتی کمیشن کی جانب سے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی نہ ہونے کا فیصلہ دیے جانے پر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کہہ چکے ہیں کہ انھیں عدالتی کمیشن کا ہر فیصلہ قبول ہے تاہم وہ مفصل رپورٹ پڑھنے کے بعد ہی اس پر تبصرہ کرنا چاہیں گے۔

یہ عدالتی کمیشن عمران خان اور ان کی جماعت کی جانب سے ہی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

اب اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کی درخواست مکمل طور پر بلاجواز نہیں تھی تاہم کمیشن کو دیے گئے شواہد سے یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ عام انتخابات میں منظم دھاندلی کی گئی۔

بہتان تراشی کا باب بند ہونا چاہیے

کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر عمران حان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے عدالتی کمیشن کے قیام کے موقعے پر ہی کہہ دیا تھا کہ وہ عدالت کے ہر فیصلے کو تسلیم کریں گے اس لیے وہ رپورٹ کو تسلیم کرتے ہیں۔

تاہم انھوں نے اپنے نام سے موجود ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کمیشن کی رپورٹ کے بعد لکھے گئے واحد پیغام میں یہ شکوہ بھی کیا کہ کمیشن تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کی حکومت کی رضامندی کی وجہ سے قائم ہوا۔ اس کیس میں دو جماعتیں تھیں لیکن رپورٹ دونوں ( پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این) کو کیوں نہیں بھجوائی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

معافی مانگیں

پاکستان تحریکِ انصاف کو خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ نشستیں ملیں اور اس موقع پر صوبے کی سابقہ حکمراں جماعت عوامی نیشنل پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اے این پی کے سینیئر رہنما حاجی عدیل نے کمیشن کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ یہ ایک بہت اچھی رپورٹ آئی ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ انتظامی خرابیاں ہوئی ہیں لیکن عدالتی کمیشن نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ ججز اور دیگر عملہ انتخابی دھاندلی میں ملوث تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خیبر پختونخوا سے متعلق کمیشن کی رپورٹ میری نظر سے نہیں گزری تاہم طالبان خان نے ہمیں لڑنے نہیں دیا اور وہ جیت گئے اور ہم نے اس کے باوجود الیکشن کے فیصلوں کو تسلیم کیا۔‘

حاجی عدیل نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ دو سال بعد عمران خان کو کس نے اشارہ کیا کہ وہ انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگائیں۔

انھوں نے عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ معافی مانگیں۔

تاہم انھوں نے مسلم لیگ نون کی حکومت کو بھی ناکام قرار دیا اور یہ مشورہ دیا کہ حکومت یہ نہ سمجھے کہ وہ جیت گئی ہے۔ اسے اب جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لینا چاہیے۔

ہمارے خلاف درخواست واپس لیں

عدالتی کمیشن کی رپورٹ پر ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر کا کہنا تھا کہ انھوں نے ابھی یہ رپورٹ تو نہیں دیکھی تاہم پی ٹی آئی جو الزامات لگاتی رہی ہے اب کمیشن کی رپورٹ کے بعد اس کا چہرہ بھی بے نقاب ہو چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پر جماعتِ اسلامی اور پی ٹی آئی نے جو بھی الزامات لگائے وہ اب ان پر وہ معذرت کریں اور اس حوالے سے دائر اپنی درخواستیں بھی واپس لے۔

اسی بارے میں