’اب بےمقصد تماشوں اور جذباتی اپیلوں کے لیے وقت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر جمہوری نظام میں رخنے نہ ڈالے جاتے تو پاکستان ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا ہوتا

پاکستان میں سنہ 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان انتخابات میں منظم دھاندلی کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

رپورٹ کے اجرا کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کے فیصلے سے پاکستان نئے دور میں داخل ہوگیا ہے اور الزامات اور بہتان تراشی کا باب اب بند ہونا چاہیے۔

’منظم دھاندلی کے منصوبہ ساز کون تھے؟‘

’عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں دھاندلی کے تمام الزامات مسترد‘

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں بنائے گئے تین رکنی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جمعرات کو اسلام آباد میں جاری کی گئی ہے۔

اس عدالتی کمیشن نے تقریباً ساڑھے تین ماہ تک چلنے والی کارروائی میں 80 سے زیادہ سماعتوں کے دوران 70 سے زائد گواہان کے بیانات سن کر یہ فیصلہ دیا ہے۔

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کی درخواست مکمل طور پر بلا جواز نہیں تھی تاہم فراہم کیے گئے شواہد سے یہ ثابت نہیں ہو سکا ہے کہ عام انتخابات میں منظم دھاندلی کی گئی۔

237 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کچھ حلقوں میں الیکشن کمیشن کی طرف سے بدانتظامی ضرور ہوئی ہے اور انتخابی عملہ مناسب طریقے سےتربیت یافتہ نہیں تھا لیکن اس کو کسی طور پر بھی منظم دھاندلی کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔

رپورٹ کے مطابق کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ سنہ 2013 کے عام انتخابات قانون اور آئین کے مطابق ہوئے اور ان کے نتائج عوامی مینڈیٹ کا عکاس ہیں۔

عدالتی کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ کارروائی کے دوران اس کے سامنے ایسے کوئی ثبوت نہیں لائے گئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ دھاندلی کی منصوبہ بندی کی گئی۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ ریکارڈ میں موجود تمام شواہد کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی خامیوں کے باوجود سنہ 2013 کے عام انتخابات کافی حد منظم اور شفاف طریقے سے قانون کے مطابق ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام ریکارڈ اور شواہد کی چھان بین کے بعد کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ عام انتخابات 2013 میں منظم دھاندلی کے شواہد نہیں ملے ہیں اور منظم دھاندلی سے متعلق عائد کیے الزامات فراہم کئے گئے شواہد کی روشنی میں ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے جمعرات کی شب قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ اس رپورٹ سے ان کی جماعت کے نہیں بلکہ قوم کے موقف کی تائید ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی کمیشن کے فیصلے کے بعد الزامات اور بہتان تراشی کا باب اب بند ہونا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالتی کمیشن نے تقریباً ساڑھے تین ماہ تک چلنے والی کارروائی میں 80 سے زیادہ سماعتوں کے دوران 70 سے زائد گواہان کے بیانات سن کر فیصلہ دیا

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ’ہم نے یہ تحریری ضمانت بھی دی تھی کہ دھاندلی ثابت ہونے پر مستعفی ہوکر ایک بار پھر عوام کے سامنے جائیں گے کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ انتخابات میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی‘۔

پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ ’مسائل دھرنوں اور سڑکوں پر نہیں ایوانوں میں حل ہوتے ہیں۔ اب ہمارے پاس بےمقصد تماشوں اور جذباتی اپیلوں کے لیے کوئی وقت نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام سے بے یقینی پیدا ہوتی ہے اور قوموں کی زندگی میں بےیقینی کے موسم تباہ کن ہوتے ہیں۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’اب ہمیں ماضی کی کوتاہیوں کی تلافی کرنا ہونا ہوگی اور اگر جمہوری نظام میں رخنے نہ ڈالے جاتے تو پاکستان ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا ہوتا۔‘

نواز شریف نے توقع ظاہر کی کہ کمیشن کی رپورٹ سے ’قوم کا قیمتی وقت ضائع کرنے والوں کو سبق ملے گا‘ اور تمام جماعتیں انتخابات کی اصلاحاتی کمیٹی میں بیٹھ کر اپنا کردار ادا کریں گی۔

ان کے بقول ’ہم ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان میں ترقی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ آج کا پاکستان دو سال پہلے والے پاکستان سے بہت بہتر ہے اور انشا اللہ اگلے آنے والے تین سالوں میں پاکستان مزید خوشحال ہو گا۔‘

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے گذشتہ برس 14 اگست کو انتخابی دھاندلیوں کو بنیاد بنا کر اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے دھرنا دیا تھا جو تقریباً چار ماہ جاری رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان ماضی میں کئی بار اس کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں

دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی سکول پر طالبان کے حملے کے بعد یہ دھرنا تو ختم کر دیا گیا تھا تاہم پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ جب تک انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل نہیں دیا جاتا اُس وقت تک ان کی جماعت کے ارکان قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

رواں برس تین اپریل کو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کا صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا تھا۔

ان دونوں جماعتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں طے پایا تھا کہ اگر عدالتی کمیشن نے کہا کہ ان انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی ہے تو پھر وزیراعظم قومی اسمبلی تحلیل کردیں گے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں شامل ہوکر موثر کردار ادا کرے گی۔

اسی بارے میں