یہ دھکا کس نے دیا تھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان تحریک انصاف نے دھاندلی کے الزامات سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو تسلیم کیا ہے۔

2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان یقینی طور پر یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اُنھیں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کا مشورہ کس نے دیا تھا؟

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو بھی تو یہ معلوم ہوگا کہ اُن کے پاس منظم دھاندلی کے ثبوت نہیں ہیں۔ اگر ہوتے تو وہ یہ ثبوت جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش کیے جا چکے ہوتے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گذشتہ عام انتخابات میں دھاندلی سے متعلق ناقابل تردید شواہد پہلے اکھٹے کیے جاتے تو پھر اس کے بعد حکومت پر دباؤ ڈال کر عدالتی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا جاتا لیکن اس کے اُلٹ ہوا۔ اور پی ٹی آئی نے پہلے حکومت پر دباؤ ڈال کر عدالتی کمیشن کی تشکیل کروائی اور اس کے بعد پارٹی کارکنوں سے کہ کہ اگر اُن کے پاس منظم دھاندلی کے بارے میں کوئی ثبوت ہیں تو وہ جلد از جلد پارٹی کے دفتر میں پہنچائیں۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی کمیشن نے جب منظم دھاندلی سے متعلق تحقیقات شروع کیں تو شائد پاکستان تحریک انصاف کو یہ امید تھی کہ عدالتی کمیشن جسے فوجداری عدالت کے اختیارات بھی حاصل تھے، ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے گی۔

اس ٹیم میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اہلکار بھی شامل ہوں گے اور یہ ٹیم ریٹرنگ افسران کے علاوہ دیگر افراد سے پوچھ گچھ کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا ۔

اگرچہ پاکستان تحریک انصاف نے دل پر پتھر رکھ کر اس عدالتی کمیشن کے فیصلے کو قبول کیا ہے لیکن جماعت کے سیکرٹری اطلاعات نعیم الحق کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی کمیشن مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دیتا تو شائد کمیشن کی فائنڈنگز کچھ اور ہوتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مبینہ دھاندلی کی تحقیقات عدالتی کمیشن سے کروانے کے لیے تحریک انصاف نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا

پاکستان تحریک انصاف تھیلے بھر کر ثبوت عدالتی کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا دعویٰ تو کرتی رہی ہے لیکن وہ محض ردی کے کاغذ ہی ثابت ہوئے کیونکہ ایک بھی ثبوت منظم دھاندلی کے الزامات ثابت نہ کرسکا۔

مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے لیے 14 اگست 2014 میں لاہور سے لانگ مارچ کرنے والے عمران خان پہلے یہ دعویٰ کرتے رہے کہ مبینہ دھاندلی میں فوج کے خفیہ ادارے ایم آئی کے ایک بریگیڈیر ملوث ہیں جن کا نام پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے آج تک نہیں بتایا۔

سنہ 2013 کے انتخابات کے دوران جسٹس افتخار محمد چوہدری پاکستان کے چیف جسٹس تھے اور عمران خان نے افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی تحریک میں حصہ لیا وہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس کو ”قوم کا مسیحا” قراد دیتے تھے۔

لیکن جب اُنھوں نے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر قومی اسمبلی کے چار حلقے کھولنے سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کی درخواست کو ترجیحی بنیادوں پر سننے سے انکار کردیا اور افتخار چوہدری کی ریٹائر ہو گئے تو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے منظم دھاندلی کے تمام تر الزامات خفیہ ادارے کے بریگیڈیر کے بجائے سابق چیف جسٹس پر دھر دیے۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے عدالتی کمیشن کے سامنے گواہان کی جو فہرست پیش کی تھی اس میں افتخار محمد چوہدری کا نام شامل نہیں تھا۔

پاکستان کے سابق چیف جسٹس نے عمران خان کے خلاف مقامی عدالت میں ہتک عزت کا دعوی بھی دائر کر رکھا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین موجودہ چیف جسٹس ناصر الملک کو ایک قابل جج اور قابل احترام سمجھتے ہیں لیکن آیا کیا وہ اُن کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ اپنے اس بیان پر قائم رہیں گے یا پھر اُن کے ساتھ بھی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرح کا رویہ رکھیں گے اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس اگست کے آخر میں ریٹائر ہور ہے ہیں۔

سنئیر صحافی طلعت حسین کہتے ہیں کہ عدالتی کمیشن کے فیصلے کے بعد عمران خان کو اپنی جماعت کی دوبارہ صف بندی کرنی چاہیے اور ایسے افراد کی نشاندہی کی جانی چاہیے جنہوں نے بغیر ثبوتوں کے عدالتی کمیشن کے قیام کے مطالبے کی حمایت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اُنھوں نے کہا کہ عدالتی کمیشن کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور لوگوں کو پی ٹی آئی پر اعتماد بحال کرنے میں ایک عرصہ درکار ہوگا۔

ماہر قانون ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ جب انتخابی اصلاحات نہیں کی جاتیں اس وقت تک دھاندلی کو روکنا ناممکن ہے۔ اگر انتخابی اصلاحات نہ ہوئیں تو پھر ملک میں ہونے والے ہر انتخابات میں دھاندلی شکاتیں زور پکڑتی جائیں گی اور عدالتی کمیشن بننے کے باوجود بھی منظم دھاندلی کبھی بھی ثابت نہیں کی جاسکے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کی مخالف سیاسی جماعتیں جہاں عمران خان سے عدالتی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد معافی کا مطالبہ کرہی ہیں وہیں ان جماعتوں کی طرف سے یہ مطالبہ بھی زرو پکڑتا جارہا ہے کہ ان محرکات کو جاننے کے لیے بھی عدالتی کمیشن بنایا جائے جن کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا۔

اسی بارے میں