چترال: سیلاب سے 26 ہلاک، پنجاب میں دو لاکھ سے زائد متاثر

Image caption گزشتہ رات آنے والے سیلاب سے زیادہ نقصان سب ڈویژن مستوج کے علاقے مور کہو میں ہوا ہے

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق چترال میں سیلاب سے کم سے کم 26 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور تقریباً 320 دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ صوبہ پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں سیلاب سے اب تک 422 دیہات متاثر ہو چکے ہیں۔ جبکہ تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب محکمۂ موسمیات نے آئندہ دو دنوں میں مزید بارشوں کی پیشنگوئی کی ہے۔

این ڈی ایم اے کے ترجمان نے بتایا کہ پنجاب میں متاثرہ افراد کے لیے 105 پانچ امدادی کیمپ بنائے گئے ہیں جن میں اس وقت ڈھائی ہزار کے قریب افراد موجود ہیں۔ان کے مطابق این ڈی ایم اے کی جانب سے چترال سمیت ملک کے دوسرے حصوں میں امدادی کام کیے جا رہے ہیں۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق خیبر پختونخوا کے آفت زدہ قرار دیے گئے ضلع چترال میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب کو اچانک سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق سیلابی ریلے میں 20 افراد بہہ گئے تھے جن میں سے 15 کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

گزشتہ رات آنے والے سیلاب سے زیادہ نقصان سب ڈویژن مستوج کے علاقے مور کہو میں ہوا ہے۔ سیلاب میں سات دیہات بہہ گئے ہیں جن میں وریجون، کشوم ، موشگول، استروو اور اتھول شامل ہیں۔

Image caption چترال میں سیلاب سے اب تک تقریباً 320 دیہات متاثر ہوئے ہیں اور ہلاکتیں26 ہو گئی ہیں

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی مدد کے لیے کوئی نہیں آیا اور وہ خود اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں۔ دس روز پہلے آنے والے سیلاب میں ان کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا تھا لیکن اس کے بعد حکومت کی جانب سے ایسی کوششیں نہیں کی گئیں کہ ان کے لیے کوئی متبادل انتظام کیا جاتا ۔ علاقے میں کوئی کیمپ یا کوئی اور ریلیف کیمپ بھی قائم نہیں ہے۔

سندھ میں سیلاب کا ممکنہ خطرہ

دوسری جانب این ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گدو اور سکھر میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر صوبہ سندھ میں تقریباً 57000 لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ دریائے سندھ میں گدو اور سکھر کے مقام پر سیلاب کا خطرہ ہے کیونکہ اس وقت گدو کے مقام پر تقریباً پانچ لاکھ کیوسک پابی داخل ہو رہا ہے اور چار لاکھ 74 ہزار کیوسک کا اخراج ہو رہا ہے۔

احمد کمال نے بتایا کہ سکھر میں تقریباً تین لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی جا رہا ہے اور تین لاکھ 26 ہزار کیوسک پانی نکل رہا ہے۔

مزید بارشوں کا امکان

دوسری جانب محمکۂ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد حنیف کا کہنا ہے کہ اگلے چند دنوں کے دوران پاکستان میں سب سے زیادہ اور شدید بارشیں جنوبی پنجاب میں ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے علاقوں میں ہونے کا امکان ہے۔

جن کی وجہ سے ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور علی پور کے علاقوں میں سیلابی ریلوں سے نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دو دنوں میں صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں مون سون کی شدید بارشیں ہوں گی جبکہ دو دنوں کے بعد مون سون کی ہوائیں پاکستان کے جنوبی علاقوں یعنی صوبہ سندھ اور بلوچستان میں داخل ہوں گی۔

انھوں نے بتایا کے آئندہ چند دنوں میں صوبہ سندھ میں کراچی، حیدر آباد اور سکھر سمیت بیشتر علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگا جو تین دن تک جاری رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption محمد حنیف کا کہنا تھا کہ شمالی علاقوں کے تمام مقامی دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان اور چترال کے لوگ محتاط رہیں

محمد حنیف کے مطابق صوبہ بلوچستان میں ژوب، نصیر آباد اور قلات کے علاقوں میں موسلادھار بارشیں ہونے کا امکان ہے جن کی وجہ سے ندی، نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ جبکہ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

شمالی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے محمد حنیف کا کہنا تھا کہ شمالی علاقوں کے تمام مقامی دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان اور چترال کے لوگ محتاط رہیں۔

اسی بارے میں