اے خضر کچھ تو ہی کر۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صوبہ پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے

بہت ہی پیارے خضر علیہِ السلام،

ہر مسلمان بچے کی طرح میں بھی آپ کے نام سے سنِ شعور سے واقف کرایا گیا ہوں۔ سب سے پہلے میری نانی نے بتایا کہ آپ کو سمندروں اور دریاؤں کا انتہائی علم ہے۔ میں نے ایک سندھی لوک داستان میں یہ بھی پڑھا ہے کہ آپ سمندرں اور دریاؤں پر نظر رکھنے کے لیے مچھلی کو بطور سواری استعمال کرتے ہیں۔ آپ نے آبِ حیات پی رکھا ہے اور آپ بھٹکے ہوؤں کی رہنمائی کرتے ہیں۔

چنانچہ آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ پاکستان کو دریاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے مگر نیچے سے اوپر تک آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے لہذا ندی نالے بھی دیکھا دیکھی اور سرکش ہوتے جا رہے ہیں۔

پہلے یہ پانچ چھ برس بعد بپھرتے تھے اب تو ہرسال ہی جان کو آجاتے ہیں۔ تاہم ہمارے حکمراں اس آبی شورش سے نمٹنے کے لیے بھی انھی طریقوں پر یقین رکھتے ہیں جو دہشت گردی سے نمٹنے میں استعمال ہو رہے ہیں۔ وہ دونوں کو قدرتی آفت ہی سمجھتے ہیں۔

مثلاً سیلاب سے بچاؤ پر تدبر کے لیے مدبرین پہلا اجلاس تب طلب کرتے ہیں جب پانی سر پہ آجاتا ہے۔ ہر بار سیلاب کی آفت پر یوں حیرانی ظاہر کی جاتی ہے جیسے پہلی بار سابقہ پڑا ہو۔ حفاظتی بندوں پر بندوں کا گشت بڑھانے کی ہدایت جاری ہوتی ہے گویا یہ بندے سیلاب کو ہاتھوں سے ہی تو روک لیں گے۔

یقین دہانی پہلے اور امداد بعد میں پہنچتی ہے اور کشتیاں بذریعہ ٹرک بھیجنے کے لیے پانی اترنے کا انتظار ہوتا ہے۔ ہمدردی جتانے والے سیاستدان و سماجی کارکن فلڈ فیسٹیول شروع ہوتے ہی گھٹنوں گھٹنوں پانی میں فوٹو کھنچوانے کے لیے بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ بعد میں گردن گردن پانی میں تصویر کھنچوانا ذرا مشکل ہوتا ہے۔

سیلاب زمین پر آتا ہے مگر اس کی تباہ کاری کا جائزہ حکمران فضا سے لیتے ہیں۔ یہ ہوائی کام ایوب خان نے شروع کیا جو ان کے سب جانشینوں نے اسٹینڈرڈ آپریٹینگ پروسیجر کے طور پر اپنا لیا۔اگر ان کا طیارہ یا ہیلی کاپٹر کہیں اترتا بھی ہے تو ایسی خشک جگہ جہاں پانچ دس ہزار متاثرہ لوگ اور ان کے مددگار سب کام چھوڑ چھاڑ کے اکھٹے ہوسکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چترال میں سیلاب سے اب تک تقریباً 320 دیہات متاثر ہوئے ہیں اور ہلاکتیں26 ہو گئی ہیں

پھر ایک ننگے پوتنگے ہونق معصوم کو گود میں اٹھانے کی رسم ادا ہوتی ہے اور میگا فون ہاتھ میں پکڑ کے ہر سال کی طرح دہرایا جاتا ہے کہ حکومت آپ کے حال سے ہرگز غافل نہیں۔ پاکستان کو آپ پر ناز ہے۔ ہر ایک کو تباہ شدہ فصل کا معاوضہ ملےگا۔ نئے مکانات بنا کر دیے جائیں گے، مالیہ اور قرضے کی قسط معاف کردی جائے گی۔

جنھوں نے بند بنانے کے بجٹ میں خرد برد کی انھیں نہیں بخشا جائے گا۔اب تو خدا کے لیے تھوڑی سی تالیاں بجا دو تاکہ میرے ساتھ جو میڈیائی فوج آئی ہے اس کے آگے سرخرو ہوسکوں ۔

پیارے خضر علیہ السلام ! آپ تو جانتے ہی ہیں کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے۔ صرف پچھلے تین لگاتار سیلابوں میں ہی ملک کو 16 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوچکا ہے۔ اتنے ندی نالے ہوتے ہوئے بھی یہ ملک پانی کی قلت کے شکار ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے۔ تواتر سے سیلاب آنے کے باوجود پاکستان کے پاس 30 دن سے زیادہ کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں۔ سیلاب نہ بھی آئے تب بھی ہر برس لگ بھگ 50 ملین ایکڑ فٹ سے زائد پانی آخری کھیت تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین میں جذب ہوجاتا ہے ، ہوا میں اڑ جاتا ہے یا چرا لیا جاتا ہے۔

پیارے خضر ! حکومت کو اور بھی بہت ضروری کام ہوتے ہیں لہذا وہ بن بلائے سیلاب کو منہ دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ آپ اسی سے اندازہ لگا لیجیے کہ جس اخبار میں یہ خبر چھپی کہ بارشوں اور طغیانی سے چترال تباہ ہوگیا اور جنوبی پنجاب کے پانچ اضلاع میں اب تک 25 فیصد فصلیں برباد اور دو لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ اسی اخبار میں یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان اسلام آباد میں فحاشی کے اڈوں کے خلاف آپریشن کی براہِ راست نگرانی کررہے ہیں اور اب تک ایک چینی مالشیئے ، دس مشکوک خواتین ، 20 غیر ملکیوں اور سات ڈرائیوروں سمیت 42 افراد کو سو پولیس کمانڈوز نے حراست میں لے لیا۔آپریشن جاری ہے۔

ان حالات میں اے خضرِ راہ تم ہی کچھ کرو اور اپنے منہ زور دریاؤں کو سمجھاؤ۔ ریاست تو سمجھنے سے رہی۔

اسی بارے میں