غداری کا مقدمہ درج کیے جانے کی درخواست کا جائزہ لارجر بینچ لے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہائی کورٹ کا لارجر بینچ تین ججوں پر مشتمل ہوگا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہائی کورٹ میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

ادھر کراچی میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے سینٹرل جیل کراچی کی انتظامیہ کو ایم کیو ایم کے زیرِ حراست رہنما قمر منصور کا طبی معائنہ کرانے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی ، جسٹس مظہر اقبال سدھو اور جسٹس ارم سجاد گل پر مشتمل تین رکنی بینچ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منظور احمد ملک نے تشکیل دیا ہے۔

یہ بینچ الطاف حسین کے پاکستان کی فوج کے بارے میں دیے گئے متنازع بیانات کے حوالے سے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیے جانے کی درخواست کا جائزہ لے گا۔

لاہور سے نامہ نگار عدیل اکرم کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ آفتاب ورک کی طرف سے دائر ایک درخواست میں یہ موقف اِختیار کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا فوج کے خلاف بیان غداری کے زمرے میں آتا ہے لہذا اُن کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ 12 جولائی کو الطاف حسین کی جانب سے ٹیلیفونک خطاب میں رینجرز پر تنقید کی گئی تھی جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں اُن کے خلاف سو سے زیادہ مقدمات درج ہوئے تھے۔

متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین کی حالیہ تقاریر کو بنیاد بنا کے پارٹی قیادت کے خلاف درج کیے گئے غداری اور ملک کے خلاف مجرمانہ سازش کے مقدمات کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر چکی ہے۔

الطاف حسین نے 12 جولائی کو کراچی میں کارکنان کے ہنگامی اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب میں کہا تھا کہ ’ہم فوج کے نہیں بلکہ فوج میں موجود گندے انڈوں کے خلاف ہیں۔جنرل راحیل شریف خدارا پاکستان کو بچا لیں اور فوج سے ان گندے انڈوں کو نکالیں جنھوں نے سویلینز کی طرح کروڑوں اربوں روپے کی کرپشن کی ہے۔‘

انہوں نے اپنی اسی تقریر میں ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بلال اکبر پر ایم کیو ایم کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے، کارکنوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ’وہ وائسرائے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک کے مختلف شہروں میں الطاف حسین کے خلاف سو سے زیادہ مقدمات درج ہوئے تھے

الطاف حسین نے الزام لگایا تھا کہ ’میجر جنرل بلال اکبر نے اپنے حلف کو توڑا ہے اس لیے وہ استعفیٰ دیدیں اور دو سال انتظارکرنے کے بعد اپنی سیاسی جماعت بنا لیں۔‘

ان کی اسی تقریر کے بعد رینجرز نے 17 جولائی کو قمر منصور کو پارٹی کی رابطہ کمیٹی کے انچارج کیف الوری سمیت ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا تھا۔

کیف الوری کو اسی شام مشروط طور پر رہا کر دیا گیا تھا جبکہ خصوصی عدالت نے 22 جولائی کو رینجرز کی درخواست پر قمر منصور کو 90 دن کے جسمانی ریمانڈ پر رینجرز کے حوالے کر دیا تھا۔

قمر منصور کے وکیل محفوظ یار خان نے بی بی سی اردو کے احمد رضا کو بتایا کہ پیر کو رینجرز کی جانب سے پیش ہونے والے استغاثہ کے اہلکار نے انکشاف کیا کہ ان کے مؤکل کو سینٹرل جیل کراچی منتقل کیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ عدالت میں پیشی کے وقت قمر منصور کو رینجرز کے اہلکار سہارا دے کر عدالت میں لائے تھے اور انھوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ کئی برسوں سے گردوں اور کمر کی تکلیف میں مبتلا ہیں اور حراست کے دوران ان کی حالت مزید خراب ہوگئی ہے۔

عدالت نے انہیں رینجرز کی تحویل میں دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ان کا طبی معائنہ کراکے رپورٹ پیر کو میں پیش کی جائے۔

محفوظ یار خان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے قمر منصور کا معائنہ آغا خان اسپتال کراچی سے کرانے کا حکم دیا ہے اور انہوں نے منگل کے لیے ڈاکٹر سے وقت بھی حاصل کرلیا ہے۔

اسی بارے میں