متاثرینِ سیلاب کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ، امدادی سرگرمیاں جاری

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں سے ہلاک ہونے والے افراد کی 69 تک پہنچ گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق صوبہ پنجاب اور سندھ میں سیلاب متاثرین کی تعداد تین لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

ادھر صوبہ خیبر پختونخوا میں آفت زدہ قرار دیے جانے والے پہاڑی ضلع چترال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صرف اسی ضلع میں متاثرین کی تعداد ڈھائی لاکھ ہے۔

چترال میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ضلع چترال میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب مزید دو افراد سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہوئے اور یوں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 34 تک پہنچ گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جو اعدادوشمار جاری کیے گئے ہیں ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں سیلاب سے 34، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 15، پنجاب میں آٹھ، بلوچستان میں سات اور گلگت بلتستان میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 36 بتائی گئی ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ دیہات کی تعداد 635 ہے جہاں 1855 مکانات متاثر ہوئے ہیں۔

ادھر صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع چترال میں پانچ دن پہلے ہونے والی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے کئی علاقوں کا ملک کے دیگر شہروں سے زمینی رابطہ بدستور منقطع ہے جس سے کئی مقامات پر خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق چترال میں بارشوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور بعض مقامات پر سیلاب کی وارننگ کے لیے سائرن بھی بجائے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ چترال سے دور افغانستان کے سرحد کے قریب تحصیل تور کو کے علاقے یروچ میں سیلاب میں دو افراد ڈوب گئے جن میں سے ایک کی لاش نکال لی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ چار ایسے پل بھی پانی میں بہہ گئے ہیں جن پر صرف جیپ پر سفر کیا جا سکتا تھا۔

Image caption چترال میں بارشوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور بعض مقامات پر سیلاب کی وارننگ کے لیے سائرن بھی بجائے گئے ہیں

مقامی انتظامیہ کے مطابق سب ڈویژن مستوج میں سیلابی ریلے میں مقامی سطح پر قائم سات چھوٹے بجلی گھر بہہ گئے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق چترال شہر کا رابطہ اب تک اپر چترال سے منقطع ہے جس وجہ سے متاثرہ علاقوں میں تمام افراد کو امدادی اشیاء مکمل طور پر فراہم نہیں جا رہیں۔

چترال سے مستوج جانے والے راستے پر فوجی کے زیلی ادارے ایف ڈبلیو او کے اہلکار کام میں مصروف ہیں تاکہ اس راستے کو رویشن تک جلد از جلد بحال کر دیا جائے۔

چترال سے گرم چشمہ جانے والے روڈ پر شالی کے مقام پر سیلاب میں مکانات، دکانیں اور مسجد بہہ گئی اور اب وہاں صرف ان کے کچھ نشان باقی ہیں۔

اس مقام پر اپنے مکان سے ملبہ نکالتے کچھ افراد نے بتایا کہ حکومت نے اب تک ان کی مدد نہیں کی ۔

عبدالاحد نامی نوجوان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے خاندان کے بارہ افراد ہیں اور پہلی مرتبہ جب سیلاب آیا تو انھوں نے پاڑ کے اوپر سے اپنے گھر کو ڈوبتے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن کچھ کر نہیں سکتے تھے۔

انھوں نے کہا کے گھر پر تین مرتبہ سیلاب آیا لیکن پہلے ریلے میں ہی چار کمرے بہہ گئے تھے اب وہاں میدان ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے ان کی کوئی مدد نہیں کی ۔

چترال سے منتخب رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین نے ان دنوں مختلف علاقوں کے دورے کیے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ چترال کی حالیہ تاریخ میں یہ سب سے بڑی تباہی ہے جہاں سیلاب سب کچھ بہا کر لے گیا ہے ۔

انھوں نے بین الاقوامی امدادی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ چترال کی تباہی کو دیکھتے ہوئے علاقے کی مدد کریں۔

میاں افتخار الدین نے کہا کہ آرمی کے دو ہیلی کاپٹروں میں سے ایک کو مرمت کے لیے گراؤنڈ کر دیا گیا ہے جبکہ صرف ایک ہیلی کاپٹر سے اتنی بڑی آبادی تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ انھوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے آپیل کی ہے کہ وہ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے پاس موجود ہیلی کاپٹر بھی چترال بھیجیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

فوج کے تعلقات عامہ کے محکمہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اب تک سات ٹن سے زیادہ راشن تقسیم کیا جا چکا ہے جبکہ سیلاب میں پھنسے سیاحوں سمیت 98 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

پنجاب، سندھ میں سیلاب کی صورتحال

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حالیہ سیلاب سے صوبہ پنجاب کے اضلاع لیہ اور کوٹ ادو کے تقریباً ایک سو گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق بارشوں سے متاثرہ اضلاع لیہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مظفر گڑھ میں انتظامیہ نے ان علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی وارننگ جاری کی ہے۔

دریائے سندھ سے آنے والا ایک بڑا سیلابی ریلہ آئندہ تین سے چار روز کے دوران ان علاقوں سے گزرے گا۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے صوبے میں کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی دریائے سندھ کے کچے کے علاقے سے لوگوں کومحفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

انھوں نے سیلاب کی صورتحال کی نگرانی کے لیے سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں بھی ایک کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق لیہ میں موبائل ریلیف آپریشن کے تحت کشتیوں کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ 82 علاقوں میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں ہیں۔

لیہ کی ضلعی حکومت کے ترجمان کا کنا ہے کہنا ہے کہ تیس طبی کیمپوں میں متاثرین کو علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں