بلوچستان میں فائرنگ کے واقعات میں تین پولیس اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پولیس نے بھی حملہ آوارں پر جوابی فائرنگ کی۔ تاہم اس حملے میں ایس پی سریاب محفوظ رہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ضلع پشین میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تین پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے پیر کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیر آباد کے علاقے سے سریاب پولیس کے ایس پی ظہور آفریدی نے جب ایک موٹر سائیکل پر سوار دو مشکوک افراد کو روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے فائر کھول دیا ۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے دو راہگیر خواتین بھی زخمی ہوئیں جبکہ جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار زخمی خواتین کو طبی امداد کے لیے ہسپتال لا رہے تھے کہ انھیں ایک دیگر مقام پر نشانہ بنایا گیا اور اس حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جن میں ایس پی کا ڈرائیور اور گن مین شامل ہیں۔

بعدازاں سول ہسپتال میں زخمی خواتین میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی۔

خیال رہے کہ کوئٹہ شہر میں پولیس اہلکاروں پرگذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران یہ چوتھا حملہ ہے۔

دوسری جانب ایک اور پولیس اہلکار کی ہلاکت کا واقعہ کوئٹہ سے متصل ضلع پشین میں پیش آیا۔

پولیس کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب سرخاب روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور پولیس اہلکار کا اسلحہ لے کر فرار ہو گئے ہیں۔

تاحال کسی بھی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے کم سے کم دس پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔

اسی بارے میں