پانچویں بار شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ جاری

Image caption تحقیقات سے یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ جرم کے وقت مجرم کی عمر 18 برس سے کم تھی: ایف آئی اے

کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے اغوا اور قتل کے مجرم شفقت حسین کو چار اگست کو پھانسی دینے کا حکم جاری کردیا ہے۔

سزائے موت پر عملدرآمدسے کس نے روکا؟

یہ پانچویں مرتبہ ہے کہ عدالت نے ان کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے ہیں۔ اس سے قبل انھیں نو جون کو پھانسی دی جانی تھی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی گذشتہ ماہ شفقت حسین کی پھانسی پر عمل درآمد روکنے سے متعلق دائر درخواست مسترد کر دی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی پھانسی کے مجرم شفقت حسین کی عمر کے تعین کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی درخواست کو مئی میں مسترد کیا تھا۔

شفقت حسین کو 2004 میں ایک سات سالہ بچے کے اغوا اور قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان کے وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جرم کے وقت ان کی عمر 18 برس سے کم تھی اور ان کا اعتراف جرم تشدد کا نتیجہ تھا۔

اپریل میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے کہا تھا کہ تحقیقات سے یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ جرم کے وقت مجرم کی عمر 18 برس سے کم تھی۔

شفقت کا نام ان 17 افراد کی ابتدائی فہرست میں شامل تھا جنھیں دسمبر 2014 میں وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے اعلان کے بعد پھانسی دینے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں