انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے 13 آئینی ترامیم پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption اسحٰق ڈار نے بتایا کہ اس کمیٹی نے پہلے سے موجود تمام انتخابی قوانین کا جائزہ مکمل کر لیا ہے

پاکستان کے وزیرِ خزانہ اور ملک میں انتخابی قوانین میں اصلاحات کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کو موثر، شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے آئین میں 13 نئی ترامیم پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرس میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس پارلیمانی کمیٹی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے آئینی ترامیم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس کمیٹی نے انتخابات سے متعلق چھ مختلف قوانین کا جائزہ مکمل کر لیا ہے اور کمیٹی نے اتفاق رائے سے طے کیا ہے کہ مؤثر اور شفاف انتخابات کے لیے آئین میں ترامیم کرنا ہوں گی۔‘

وزیرِ خزانہ کے مطابق ’ابھی 13 ترامیم پر اتفاق ہو گیا ہے لیکن اگر کمیٹی نے مناسب سمجھا تو مزید ترامیم بھی کی جا سکتی ہیں۔‘

انتخابی عمل میں اصلاحات لانے کے لیے یہ کمیٹی گذشتہ سال اُس وقت بنائی گئی تھی جب عمران خان نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کی تھی۔

34 رکنی اس کمیٹی میں پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اس اصلاحاتی کمیٹی نے اپنا 80 فیصد کام مکمل کر لیا ہے: ’انتخابی اصلاحات کے لیے جو سب کمیٹی بنی تھی اس کی پراگریس رپورٹ جو آج زاہد حامد نے کمیٹی کے سامنے پیش کی ہے اس کے مطابق تجاویز کی تیاری کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔‘

اسحاق ڈار نے بتایا کہ اس کمیٹی نے پہلے سے موجود تمام انتخابی قوانین کا جائزہ مکمل کر لیا ہے اور انھیں نئے قوانین سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ کمیٹی نے آج یہ بھی طے کیا ہے کہ انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں الیکشن کمیشن اور انتخابی عمل میں جن خامیوں کا ذکر کیا گیا ہے انھیں بھی اسی کمیٹی کی تجاویز کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ ان کوتاہیوں کو بھی جوڈیشل کمیشن کی تجاویز کی روشنی میں ٹھیک کیا جا سکے۔‘

اسحاق ڈار کے مطابق انتخابی عمل میں اصلاحات کی تجاویز ایک ماہ میں مکمل کر لی جائیں گی جس کے بعد انھیں کمیٹی کے ارکان کے حوالے کر دیا جائے گا جو اپنی اپنی سیاسی قیادت سے اس بارے میں حتمی رائے حاصل کریں گے۔

خیال رہے کہ سنہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے حال ہی میں اپنی رپورٹ میں جہاں حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے لگائے گئے دھاندلی سے متعلق تمام الزامات مسترد کر دیے ہیں وہیں یہ بھی کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کچھ حلقوں میں الیکشن کمیشن کی طرف سے بدانتظامی ضرور ہوئی ہے اور انتخابی عملہ مناسب طریقے سےتربیت یافتہ نہیں تھا۔

پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف گذشتہ برس پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا بھی دیا تھا اور حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیاتھا۔

ان دونوں جماعتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق اگر عدالتی کمیشن کہتا کہ ان انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی تو پھر وزیراعظم قومی اسمبلی تحلیل کر دیتے اور اب ایسا نہ ہونے کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں شامل ہوکر موثر کردار ادا کرنے کی پابند ہے۔

اسی بارے میں