کراچی آپریشن کو شفاف اور قانون کے دائرے میں رکھنے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایچ آر سی پی کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنماؤں پر الطاف حسین کی تقاریر سننے کے باعث مقدمات قائم کرنا آزادی رائے اور آزادی اظہار کے حق سے مطابقت کا حامل نہیں

پاکستان میں حقوقِ انسانی کے کمیشن نے کراچی میں جاری رینجرز آپریشن کو زیادہ شفاف اور قانون کے دائرہ میں ر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر رینجرز مخالف تقاریر پر مقدمات درج کرنے پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

کراچی میں دو سال قبل ٹارگٹ کلنگ، شدت پسندی، بھتہ خوری اور قبضہ گیری کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس میں رینجرز کو مرکزی کردار دیا گیا اور پھر پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد وجود میں آنے والی ایپکس کمیٹی سے رینجرز کا دائرہ کار میں مزید اضافہ ہوگیا۔

انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ رینجرز کے آپریشن کے بارے میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اصرار کیا گیا ہے کہ اس آپریشن کا ہدف وہ ہی ہے اور اسے ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

کمیشن کے مطابق اس حوالے سے ایم کیو ایم کے دفاتر پر چڑھائی کے دوران ایم کیو ایم اور رینجرز نے الگ الگ دعوے کیے ہیں جو آزادانہ چھان بین کا تقاضہ کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کے اعلامیے کے مطابق دعویٰ اور جوابی دعویٰ کے دوران حق رائے اور اظہار رائے کے حق کے بارے میں پیدا ہونے والے خدشات سے کمیشن کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

’رینجرز یا کسی بھی ادارہ پر تنقید کے حق پر کسی قسم کی قدغن لگانے کی کوئی جائز وجہ موجود نہیں۔ یقینا یہ حق نفرت یا تشدد پھیلانے کے لیے استعمال نہیں ہوسکتا۔‘

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایچ آر سی پی یہ نہیں سمجھتا کہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں پر الطاف حسین کی تقاریر سننے کے باعث مقدمات قائم کرنا آزادی رائے اور آزادی اظہار کے حق سے مطابقت کا حامل ہے۔ ماسوائے اس کے کہ یہ عمل نفرت پر اُکساتا ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں دو سال قبل ٹارگٹ کلنگ، شدت پسندی، بھتہ خوری اور قبضہ گیری کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس میں رینجرز کو مرکزی کردار دیا گیا

انسانی حقوق کمیشن نے تسلیم کیا ہے کہ کراچی میں ہونے والی بہیمانہ قتل وغارت گری میں رینجرز کے آپریشن کے باعث یقینی طور پر کمی واقع ہوئی ہے اور کمیشن یہ توقع کرتا ہے کہ اس بہتر ہوتی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں گے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس قتل وغارت گری میں ملوث عناصر کو شفاف اور قانونی طریقے سے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

ایچ آر سی پی نے کراچی میں مشتبہ افراد کے مقابلوں میں مارے جانے میں قابل ادراک اضافہ کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے ہونے کے بارے میں بھی تشویش کا ظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے اعدادوشمار سے بھی عیاں ہوتا ہے، سکیورٹی آپریشنوں میں شفافیت پر اس قدر زور نہیں دے سکتے جس قدر ضرورت ہے۔

کمیشن کے مطابق وہ بلاتردید یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہے کہ لوگوں کا اٹھا لیا جانا اور ان کے اتے پتے کے بارے میں کافی عرصہ لاعلم ہونا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ سکیورٹی ایجنسیاں بھی طالبان اور ان جیسے دوسرے گروہوں کے بارے میں جانتی ہیں کہ وہ کراچی میں پھل پھول رہے ہیں، وہ اپنی عدالتیں لگاتے ہیں اور جھگڑوں کے فیصلے کرتے ہیں۔

کمیشن نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ سکیورٹی ایجنسیاں اتفاق کریں گی کہ کراچی میں امن وامان بحال کرنے کے لیے اٹھایا گیا کوئی بھی اقدام اس وقت تک بے مقصد رہے گا جب تک ایسے عناصر کا تعاقب نہیں کیا جاتا۔

اسی بارے میں