بارشوں سے موئن جو دڑو کے آثارِ قدیمہ متاثر

Image caption موئن جو دڑو کے صحافی عبدالحق پیرزادہ کا کہنا ہے کہ موئن جو دڑو سے بارش کے پانی کی نکاسی کا کوئی نظام موجود نہیں ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں حالیہ بارشوں کے دوران عالمی تقافتی ورثے موئن جو دڑو کے آثار بھی متاثر ہوئے ہیں۔

اس علاقے میں واقع کھنڈرات زیر آب آگئے ہیں تاہم محکمہ آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ پانی کی نکاسی کر دی گئی ہے۔

گذشتہ چند روز سے جاری بارشوں کے دوران موہن جو دڑو، اسٹوپا اور گریٹ باتھ سمیت ایس ڈی ایریا، ڈی کے ایریا، ایچ آر ایریا اور منیر ایریا متاثر ہوئے ہیں جہاں گلیوں اور کمروں میں بارش کا پانی جمع ہوگیا۔

موئن جو دڑو کے صحافی عبدالحق پیرزادہ کا کہنا ہے کہ موئن جو دڑو سے بارش کے پانی کی نکاسی کا کوئی نظام موجود نہیں ہے، جس کے باعث جب شدید بارشیں ہوتی ہیں تو یہ آثار بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

’ کچھ کمرے اونچائی پر بنے ہوئے ہیں اور کچھ نشیب میں۔ بارشوں کے دوران ان میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ دو روز قبل ہونے والی بارش سے کئی دیواروں سے مٹی نکل گئی ہے اور بوسیدہ اینٹوں کو پانی نے متاثر کیا۔‘

موئن جو دڑو کے بارے میں ماہرین کی رائے ہے کہ یہ پانچ ہزار سال قدیم تہذیب کے آثار ہیں۔ سنہ 1922 سے 1928 کے درمیاں پہلی بار کھدائی، برطانوی ماہر سر جان مارشل کی سربراہی میں ہوئی۔ جس کے بعد سے آٹھ جگہوں پر کام کر کے ’ایریاز‘ کی کھدائی کی جا چکی ہے۔

موئن جو دڑو کے کیوریٹر حیدر گاڈھی کا کہنا ہے کہ بارش کے پانی کے جو راستے ہیں ان کی پہلے ہی نشاندھی کر کے مستحکم کردیا جاتا ہے۔ ’وہ ایریا جہاں گہرائی ہے وہاں مصنوعی تلاب بنائے جاتے ہیں تاکہ پانی وسط میں اکٹھا ہوسکے بعد میں اس پانی کی مقدار کو دیکھ کر ڈی واٹرنگ مشین یا پھر ڈبوں کی مدد سے نکاسی کی جاتی ہے۔‘

بارشوں اور پنجاب سے آنے والے پانی کے باعث دریائے سندھ میں اس وقت نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ کشمور، سکھر اور دیگر اضلاع میں کچے کے علاقے زیر آب آنے کے بعد دس ہزار افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

Image caption صحافی عبدالحق کے مطابق بارش کے پانی کی نکاسی دیگر آثار سے گزار کر کی جاتی ہے، جس سے یہ پانی مزید نقصان پہنچاتا ہے

موئن جو دڑو کے قریب سے دریائے سندھ کا گزر بھی ہوتا ہے۔ ان آثارِ قدیمہ کی حفاظت کے لیے اقوام متحدہ کے ثقافتی ورثے کے بارے میں عالمی ادارے یونیسکو کی مدد سے دریا کے حفاظتی بند کی سٹون پچنگ کی گئی ہے۔

کیوریٹر حیدر علی گاڈھی کا کہنا ہے کہ سردیوں میں آثار قدیمہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بقول ان کے مون سون گرمیوں میں آتا ہے ان دنوں نمکیات غیر متحرک ہوتی ہے اس کے برعکس جب درجہ حرارت 30 سینٹی گریڈ سے کم ہو تو یہ نمکیات متحرک ہوجاتی ہے جس سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ بارش سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ ان نمکیات کو صاف کردیتی ہے۔

موئن جو دڑو میں بارش کے پانی کی نکاسی زیادہ تر ملازم دستی طور پر کرتے ہیں۔ 250 ہیکٹرز پر مشتمل اراضی سے پانی کی نکاسی کے لیے 6 ڈی واٹرنگ مشینیں دستیاب ہیں۔ حکام کے مطابق ہر مشین کے ساتھ 300 فٹ پائپ ہے جس کی مدد سے بارش کے پانی کی نکاسی ہوتی ہے۔

صحافی عبدالحق کے مطابق بارش کے پانی کی نکاسی دیگر آثار سے گزار کر کی جاتی ہے، جس سے یہ پانی مزید نقصان پہنچاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نکاسی کا کوئی نظام موجود نہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو کی خواہش پر موئن جو دڑو میں سندھ فسیٹیول کا انعقاد کیا گیا تھا، جس پر بھی ماہرین نے اعتراض کیا اور کہا تھا کہ اس سے آثار قدیمہ متاثر ہوں گے۔ تاہم صوبائی حکومت نے ان اعتراضات کو مسترد کرکے پروگرام منعقد کیا تھا۔

اسی بارے میں