لشکرِ جھنگوی کے سابق امیر ملک اسحاق سمیت 14 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک اسحاق پر شیعہ اور دیگر مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کے درجنوں مقدمات قائم کیے گئے تھے اور وہ تقریباً پندرہ سال جیل میں رہے

پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں حکام کے مطابق بدھ کی صبح پولیس کی ایک کارروائی کے دوران کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی کے بانی و سابق امیر ملک اسحاق سمیت 14 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس کارروائی میں حصہ لینے والے ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ شدت پسندی کے متعدد واقعات کی تفتیش کے دوران ملنے والے شواہد کی بنا پر ملک اسحاق اور ان کے بیٹوں کو شاہ ولی کے قریب جنگلوں میں ایک مکان پر لے جایا جا رہا تھا جہاں انھوں نے اسلحہ موجود ہونے کے بارے میں بتایا تھا۔

اہلکار نے بتایا کہ ملزمان کی جائے وقوع سے واپسی کے دوران وہاں پہلے سے موجود ان کے ساتھیوں نے ملک اسحاق اور دوسرے ملزمان کو چھڑانے کے لیے پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ہونے والی فائرنگ میں ملک اسحاق اور اس کے دو بیٹوں عثمان اور حق نواز سمیت 14 افراد ہلاک ہوگئے۔

اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کلعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے ترجمان قاری غلام رسول بھی شامل ہیں جبکہ دیگر ملزمان میں سے چند افراد کا تعلق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے تھا اور وہ شدت پسندی کے متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔

’القاعدہ کے انکار پر لشکرِجھنگوی کا طالبان سےگٹھ جوڑ‘

سپاہ صحابہ کا سیاسی چہرہ بہتر کرنے کوشش

مقامی پولیس کے مطابق کچھ ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال میں داخل کروادیا گیا ہے۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران کچھ اسلحہ اور شدت پسندی میں استعمال ہونے والہ مواد بھی ملا ہے۔

یاد رہے کہ ملک اسحاق گذشتہ آٹھ ماہ سے خدشہِ نقصِ امن کے تحت ملتان جیل میں نظربند تھے۔ چند روز قبل ملک اسحاق اور اس کے دو بیٹوں سمیت پانچ افراد کو آٹھ افراد کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جن میں اہلِ تشیع کے لوگ بھی شامل تھے۔

محکمہِ انسدادِ دہشتگردی کے اہلکار کے مطابق شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ان افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے میں لشکرِ جھنگوی کے کارکن تہذیب حیدر اور محمد زبیر نامی ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا جنھوں نے تفتیش کے دوران پولیس کو بتایا کہ 16 افراد پر مبنی ایک خصوصی گروہ تشکیل دیا گیا ہے جس کو فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری سونپی گئی۔

خیال رہے کہ ملک اسحاق پر شیعہ اور دیگر مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کے درجنوں مقدمات قائم کیے گئے تھے اور وہ تقریباً 15 سال جیل میں رہے۔

وہ ابتدا میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رکن تھے لیکن اپنی مبینہ متشدد پالیسی کی بنیاد پر سپاہ صحابہ سے اختلاف کے بعد ایک نئی تنظیم لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی اور اس کے بانی امیر بنے۔ یہ تنظیم بھی کالعدم قرار دے دی گئی تھی۔

سنہ 2012 میں سپاہ صحابہ میں قیادت کے معاملے پر اختلافات ختم ہوگئے تھے اور تنظیم کے موجودہ سربراہ احمد لدھیانوی اور ملک اسحاق میں صلح کے بعد انھیں تنظیم کا نائب صدر بنا دیا گیا تھا۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے انھیں ایک ’عالمی دہشتگرد‘ قرار دیا تھا اور ان کی تنظیم لشکرِ جھنگوی کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

اسی بارے میں