کیا اس امیر شہر میں ہمارے لیے کوئی جگہ ہے؟

Image caption افغان بستی 20 ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے اور یہاں تقریباً 20 ہزار لوگ 800 کچے مکانوں میں رہتے ہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت آئی الیون سیکٹر کی کچی آبادی کے 100 سے زائد گھر مسمار کر دیے گئے ہیں جبکہ اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حکومت نے ہزاروں افراد پر کارِ سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور کئی رہائشیوں اور ان کی حامیوں کی گرفتاری کی بھی اطلاعات ہیں۔

کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کی کچی آبادیوں کو مسمار کرنے کی مہم گذشتہ کئی ماہ سے چل رہی ہے۔

اس مہم کی سربراہی کرنے والے سی ڈی اے کے اہلکار حمزہ شفقات نے بی بی سی کو بتایا کہ سروے کے مطابق اسلام آباد میں 43 غیر قانونی کچی آبادیاں ہیں اور ان میں سے دس کو مسمار کر دیا گیا ہے۔

’اسلام آباد کی ہائی کورٹ کے حکم کے تحت یہ سب سے بڑی اور سب سے اہم کچی آبادی ہے جہاں جرائم بھی ہیں اور ان لوگوں کے پلاٹس پر قبضہ کیا گیا ہے جنھوں نے زمینیں 1985 میں خریدی تھیں۔‘

اس سیکٹر میں تقریباً 20 ہزار افراد 800 کچے مکانوں میں رہتے ہیں۔

Image caption انتظامیہ کے اہلکار افغان بستی کو مسمار کیے جانے کا جائزہ لیتے ہوئے

سی ڈی اے کے مطابق یہاں 230 ایسے پلاٹ ہیں جن پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا گیا ہے۔ تاہم آئی الیون کی کچی بستی، جسے افغان بستی بھی کہا جاتا ہے کے مکین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ اس علاقے میں کئی دہائیوں سے رہ رہے ہیں اور وہ یہاں سے تب تک نہیں ہٹیں گے جب تک انہیں متبادل جگہ نہیں دی جاتی۔

جمعرات کو ہونے والے اس آپریشن کی کچی آبادی کے رہائشیوں نے مزاحمت بھی کی اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔

اس کے علاوہ مظاہرین نے کچے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ کر بلڈوزرز کو روکنے کی کوشش کی جبکہ پولیس نے ان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ان واقعات میں بعض افراد زخمی بھی ہوئے۔

مزاحمت کرنے والوں میں 35 سالہ ناصر خان ہیں۔ یہ قریب واقع سبزی منڈی میں دہاڑی کے مزدور ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اپنے علاقے کے خانوں سے چھٹکارا پانے کے لیے ان کا خاندان یہاں30 سال پہلے منتقل ہوا تھا۔

Image caption اسلام آباد میں 43 غیر قانونی کچی آبادیاں ہیں اور ان میں سے دس کو گرا دیا گیا ہے: سی ڈی اے

اس آپریشن سے ایک روز قبل ناصر خان نے اپنے گھر کے لیے جان دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ’بلڈوزر لائیں گے تو ہم بلڈوزر کے نیچے گریں گے۔ ماریں، کیونکہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہم دو والدین اور چھ بھائیوں اور بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ اتنے بڑے خاندان کو کوئی گھر کرائے پر کہاں دیتا ہے۔ ہم کہاں جائیں؟‘

دوسری جانب ریٹائرڈ بینک اہلکار راجہ منظور حسین ہیں جنہوں نے 14دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسلام آباد کے ہائی کورٹ میں اپنے پلاٹ کے حصول کے لیے درخواست دائر کی۔ اسی کیس کے سلسلے میں ہائی کورٹ نے افغان بستی کو مسمار کرنے کا حکم دیا۔

راجہ منظور سی ڈی اے کو اس معاملے کے لیے قصور وار ٹھراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے1993 آئی الیون میں اپنے نام پلاٹ کرایا اور اپنا گھر بنانے کی چاہ میں بوڑھے ہو گئے ہیں۔

Image caption اسلام آباد ہائی کورٹ نے افغان بستی کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا

’اِدھر اُدھر سے رشتہ داروں سے پیسے پکڑ کر ہم نے یہ پلاٹ خریدا۔ سوچا تھا کہ گھر بنائیں گے اور عزت سے زندگی گزاریں گے۔ لیکن 30 سال ہو گئے ہیں در بدر کی ٹھوکریں کھا کر کرائے کے مکانوں میں رہ رہے ہیں، ظلم کی انتہا ہے۔‘

تاہم کچی آبادیوں کے لیے آواز اٹھانے والی سیاسی جماعت عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما عاصم سجاد اختر کہتے ہیں کہ سی ڈی اے کی جانب سے یہ کارروائی بھی آئین کی خلاف ورزی ہے۔

’2001 میں ہاؤسنگ پالیسی بنی تھی جس کے تحت حکومت اگر کوئی کچی آبادی خالی کرانا چاہے تو انہیں کوئی متبادل اور مناسب جگہ دے کر کرے گی۔ آخر یہ انسان ہیں، لوگ ہیں، انہیں سڑک پر تو نہیں پھینک سکتے۔ آئین میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو چھت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔‘

گذشتہ کئ برسوں سے اسلام آباد کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کئی نجی ہاؤسنگ سکیمیں بھی شروع کی گئی ہیں۔ تاہم مڈل کلاس اور مزدور رہائشی پوچھتے ہیں کیا اس امیر شہر میں ان کے لیے کوئی جگہ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2001 میں بنائی جانے والی ہاؤسنگ پالیسی کے مطابق کچی بستی گرانے پر حکومت مکینوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کی پابند ہوگی