تحریک انصاف کے خلاف ایم کیو ایم، جے یو آئی کی مشترکہ حکمت عملی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption قومی اسمبلی میں جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اور متحدہ قومی موومنٹ نے پی ٹی آئی کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کے حوالے سے الگ الگ قرار دادیں جمع کرائی ہیں

متحدہ قومی موومنٹ اور جمیعت علمائے اسلام (ف) نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کے بارے میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جمعرات کو ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جس میں مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق مولانافضل الرحمن نے کہا کہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی یا اختلاف نہیں اور ان کی کمٹمنٹ آئین سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت اگر کوئی رکن بغیر بتائے ایوان سے مسلسل 40 دن غیر حاضر رہے تو پھر ایوان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کی رکنیت ختم کر دے۔

فضل الرحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کے ارکان نے خود ہی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا، ایسی صورت میں بھی آئین کا کوئی بھی گوشہ ان کواسمبلی میں بیٹھنے کاموقع نہیں دیتا۔‘

الطاف حسین نے مولانا فضل الرحمن کے خیالات سے اتفاق کیا اور کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں آئین کے تحت اقدام ہوناچاہیے اور وہ اس سلسلے میں اپنے موقف پرقائم ہیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اور متحدہ قومی موومنٹ نے الگ الگ قرار دادیں جمع کرائی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف کے ارکان ِاسمبلی دھرنوں کے دوران 40 دن سے زیادہ عرصے تک ایوان سے بغیر اطلاع دیے غیر حاضر رہے لہذا ان کی رکنیت ختم کی جائے اور الیکشن کمیشن ان نشستوں پر ضمنی انتخابات کروائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں جاری سرد جنگ کراچی سے ایوان زیریں اور وہاں سے لندن پہنچ چکی ہے

وزیرِ اعظم نواز شریف نے بدھ کو متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے ارکان کی پارلیمانی رکنیت ختم کرنے کے بارے میں قراردادیں واپس لے لیں۔

وزیر اعظم نے ایم کیوایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت کو قومی اسمبلی سے قراردادیں واپس لینے پر آمادہ کرنے کے لیے چار رکنی ٹیم بھی تشکیل دی ہے جس میں وفاقی وزرا پرویز رشید، اسحاق ڈار اور خواجہ سعد رفیق کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی شامل ہیں۔

حکومتی ٹیموں نے متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علما اسلام ف سے رابطہ کیا ہے لیکن دونوں جماعتوں کی جانب سے کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی حکومتی موقف کی تائید کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں جاری سرد جنگ کراچی سے ایوان اور وہاں سے لندن پہنچ چکی ہے جہاں دونوں جماعتوں نے ایک دوسری کی قیادت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

کراچی میں جاری آپریشن اور ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے کے بعد جب تمام سیاسی جماعتوں نے ایم کیو ایم سے فاصلے بڑھا دیے ہیں۔

اس صورتحال میں جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان تحریک انصاف مخالف ایک نکاتی ایجنڈے پر ایم کیو ایم سے متفق ہوئے ہیں جبکہ اس سے پہلے وہ ایم کیو ایم پر کراچی صورتحال کے باعث تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے ارکان کی پارلیمانی رکنیت ختم کرنے کے بارے میں قراردادیں واپس لے لیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے یہ بات بدھ کو اسلام آباد میں پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے دونوں جماعتوں پر زور دیا کہ وہ قومی اسمبلی میں اپنی قراردادوں پر ووٹنگ پر اصرار نہ کریں۔

اس اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات پرویز رشید نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیرِ اعظم کے اصرار پر دونوں جماعتوں کے قائدین نے انھیں بتایا کہ وہ پارٹی کی سطح پر مشاورت کے بعد انھیں اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیں گے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایم کیوایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت کو قومی اسمبلی سے قراردادیں واپس لینے پر آمادہ کرنے کے لیے چار رکنی ٹیم بھی تشکیل دی ہے جس میں خود ان کے علاوہ اسحاق ڈار، خواجہ سعد رفیق اور وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی شامل ہیں۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں کا معاملہ قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر حل کیا جائے گا

اس سے قبل منگل کو قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق پیش کی جانے والی قراردادوں پر رائے شماری چار اگست تک موخر کر دی تھی۔

یہ قراردادیں حکمراں اتحاد میں شامل جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اور متحدہ قومی موومنٹ نے قومی اسمبلی کے ایوان میں پیش کی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ چونکہ تحریکِ انصاف کے ارکان ِاسمبلی دھرنوں کے دوران 40 دن سے زیادہ عرصے تک ایوان سے بغیر اطلاع دیے غیر حاضر رہے لہذا ان کی رکنیت ختم کی جائے اور الیکشن کمیشن ان نشستوں پر ضمنی انتخابات کروائے۔

ان قراردادوں کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے 28 اراکینِ قومی اسمبلی کے ناموں کی فہرست بھی منسلک کی گئی تھی۔

اسی بارے میں