پاکستان میں تاجروں کی ٹیکس کے خلاف ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پشاور میں کاروباری مراکز بند رہے

پاکستان میں حکومت کی جانب سے بینکاری لین دین پر 0.3 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کے خلاف سنیچر کو ملک بھر کی تاجر برادری شٹر ڈاؤن ہڑتال کر رہی ہے۔

تاجروں کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جب تک حکومت بینک لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس کے فیصلے کو واپس نہیں لیتی احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ملک کے دیگر شہروں کی طرح سنیچر کو لاہور میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے جس کے باعث کاروباری زندگی معطل ہے۔

لاہور کے مصروف کاروباری علاقے مال روڈ، انارکلی، ہال روڈ اور شاہ عالم مارکیٹ سمیت دیگر کاروباری مراکز بند ہیں۔

اِس کے علاوہ صوبہ پنجاب کے دیگر شہر ملتان، ساہیوال، بورے والا، قصور فیصل آباد میں بھی تاجروں کی جانب سے ہڑتال کی کال کے باعث دکانیں بند ہیں۔

ملک کی مختلف تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں حکومت پر واضح کیا گیا کہ اگر اُس نے ٹیکس کا فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے گا۔

تاجروں کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا کہ وہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مل کر پہیہ جام ہڑتال کے بارے میں بھی غور کر رہے ہیں اور آئندہ ہڑتال ایک کی بجائے تین دن کی ہو گی۔

انجمن تاجران پاکستان کے سیکریٹری جنرل نعیم میر کا کہنا ہے کہ سنیچر کا احتجاج تاجروں کی جانب سے محض ایک ہڑتال نہیں بلکہ حکومت کے خلاف ایک ریفرینڈم ہے۔

نیعم میر نے کہا کہ تاجر ٹیکس دینا چاہتے ہیں اور وہ اِس سلسلے میں حکومت سے مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں لیکن جب تک حکومت ود ہولڈنگ ٹیکس کے فیصلے کو واپس نہیں لیتی تب تک مذاکرات کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔

تاجر رہنما نے وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اِس ساری صورتحال کا نوٹس لیں ورنہ احتجاج میں شدت آ سکتی ہے۔

تاجر رہنماؤں کے جانب سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ چار اگست کو ملک بھر کے تاجر اسلام آباد میں ایک اجلاس منعقد کر رہے ہیں جس میں آئندہ کا لائحہ عمل اور احتجاج کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ہڑتال کے معاملے پر ملک بھر کے تاجر دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں کچھ تاجروں نے یکم اگست جبکہ دیگر نے پانچ اگست کو ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

تاجر تنظیموں کی جانب سے دو حصوں میں احتجاج کے مسئلے پر انجمن تاجران پنجاب کے صدر شیخ محمود کا کہنا ہے کہ تمام تاجر آئندہ ایک ہی دن ہڑتال کریں گے کیونکہ سب کے مفادات اور مسائل مشترکہ ہیں۔

اسی بارے میں