دریائے سندھ میں پانی کی سطح اندازے سے زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیشنل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے پاکستان میں تقریبا ساتھ لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے ہیں

پاکستان میں دریائے سندھ میں حکومتی اندازوں سے زیادہ پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے۔ پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے ایمرجنسی وارننگ جاری کر دی ہے۔

وراننگ جاری کیے جانے کے بعد کچے کے علاقے سے پونے تین لاکھ کے قریب افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

سندھ میں محکمۂ آبپاشی کا کہنا تھا کہ آنے والے چند روز میں دریائے سندھ میں پانی کی آمد زیادہ سے زیادہ سات سے سوا سات لاکھ کیوسک تک رہے گی، لیکن گڈو کے مقام پر گذشتہ شب ہی پانی چھ لاکھ کیوسک سے بڑھ چکا تھا۔

سکھر بیراج کے کنٹرول روم کے انچارج عبدالعزیز سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دریا میں پانی کی سطح جب 6 لاکھ کیوسک سے بلند ہو جائے تو صورتحال قابل تشویش ہوجاتی ہے، امکان تو یہ ہے کہ پانی کی آمد 7 لاکھ کیوسک سے تھوڑی زیادہ ہوگی لیکن اگر کوہ سلیمان پر بارشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔‘

پنجاب کے محکمہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بھی سندھ حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ دریائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، جس کے بعد دریائے سندھ میں پانی کی سطح 8 لاکھ کیوسک تک پہنچ جائےگی۔

سندھ کے محکمہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے صورتحال میں تبدیلی کے بعد تمام متعلقہ سرکاری محکموں کو ایمرجنسی سینٹر متحرک کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے اور کہا کہ حساس علاقوں سے لوگوں کا انخلا یقینی بنایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صوبائی ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ کچے سے 92 ہزار کے قریب لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے

نیشنل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے پاکستان میں تقریباً سات لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ 109 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جن میں صوبہ سندھ شامل نہیں۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے اموات کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

سندھ میں دریا کے کچے کے علاقے سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے والے افراد کی تعداد 2 لاکھ 65 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، جن میں صرف 35 ہزار کے قریب ریلیف کیمپوں میں موجود ہیں۔

کشمور کندھ کوٹ ضلعے میں متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب موجود ہے، صوبائی ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ کچے سے 92 ہزار کے قریب لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے تاہم مقامی ذرائع اس کی تعداد دوگنی بتاتے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کے انخلا میں ضلعی انتظامیہ کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ لوگ اپنی صورتحال کے خود ہی اچھے جج ہوتے ہیں جب پانی کی سطح بلند ہوتی ہے تو ایک دو لوگوں کو چھوڑ کر باقی لوگ مال مویشی کے ساتھ پکے کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں جہاں اکثریت کی اپنے گھر موجود ہیں۔ بقول ان کے اسی لیے کیمپوں میں لوگ کم آتے ہیں۔

اسی بارے میں