’الطاف حسین کی تقاریر کا معاملہ قانونی طور پر اٹھائیں گے‘

Image caption ’حکومت ایم کیو ایم کے قائد کی تقریر پر مکمل پابندی کے بارے میں غور کر رہی ہے‘

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ریاستی اداروں کی تضحیک ہے اور اُن کی حالیہ تقریر پاکستان کے خلاف جنگ ہے۔

اتوار کو وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ برطانیہ کے حکام کے ساتھ الطاف حسین کی تقاریر کا معاملہ قانونی طور پر اُٹھایا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’الطاف حسین نے ایک غیر ملک میں گذشتہ رات کی گئی نفرت انگیر تقریر تمام حدیں عبور کر دی ہیں۔ فوج کے خلاف مزاحیہ نظمیں پڑھیں گئیں اُن پر الزامات لگائے اور دشمن ملک سے پاکستان میں مداخلت کے لیے کہا گیا ہے‘

کراچی: رینجرز کا چھاپہ اور اسلحے کی برآمدگی

’ایم کیو ایم کی تنظیمی کمیٹی عسکری ونگ کو منظم کرتی ہے‘

’نائن زیرو پر کارروائی قانون کے دائرے میں رہ کر کی گئی‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے الطاف حسین کی حالیہ تقریر پر کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگلے چند دنوں میں پاکستانی حکومت برطانیہ اور میٹروپولیٹن پولیس کو طور باضابطہ ریفرنس بھجوائے گے اور یہ ایک کھلی دستاویز ہو گی۔‘

’الطاف حسین کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے مسودے کی تیاری شروع کر دی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسے غلط الفاظ کسی بھی محبِ وطن پاکستانی کے جذبات کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ الطاف حسین نے گذشتہ شب امریکہ کے شہر ڈیلاس میں ایم کیو ایم کے سالانہ کنونشن سے ٹیلی فون پرخطاب کیا تھا۔

جس میں انھوں نے کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ بین الاقوامی اداروں سے کہیں کہ کراچی میں اقوام متحدہ یا نیٹو کی افواج بھیجیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کس نے قتل عام کیا اورکون کون اس کاذمہ دارتھا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ الطاف حسین کی تقاریر کو ٹی وی چینل پر براہ راست نشر کرنے پر تو پابندی عائد کی گئی ہے لیکن حکومت ایم کیو ایم کے قائد کی تقریر پر مکمل پابندی کے بارے میں غور کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایم کیو ایم کے لندن کے دفتر سے کی گئی تقریر ملک کی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف سازش ہے۔ تقریر میں بھارت سمیت غیر ملکی افواج کو پاکستان میں مداخلت کے لیے کہا گیا ہے۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاستی ادارے متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف نہیں ہیں اور ایم کیو ایم سیاسی جماعت ہے جس کا احترام ’پاکستان کی فوج، رینجرز سمیت تمام ریاستی ادارے کرتے ہیں۔‘

’ایم کیو ایم کے چند افراد کی الطاف حسین کی ان سرگرمیوں میں شامل ہیں باقی اس سے آگاہ نہیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن سے شہر کے حالات بہتر ہوئے ہیں اور شہر میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری میں کمی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی آپریشن میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی گئی ہے

انھوں نے کہا کہ کراچی آپریشن میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی گئی ہے اور اس کامیابی کا سہرا رینجر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جاتا ہے۔

یاد رہے کہ الطاف حسین نے گذشتہ رات اپنی تقریر میں کہا تھا کہ کراچی آپریشن کے دوبرسوں کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں بے گناہ کارکنوں کو گرفتارکیاگیا، درجنوں کو لاپتہ کردیاگیااور بعد میں قتل کرکے ان کی لاشیں سڑکوں پر پھینک دی گئیں۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح ڈاکٹرعمران فاروق کا قتل ان پر ڈالا جائے لیکن اللہ بہترجانتاہے کہ ان کا عمران فاروق قتل سے کوئی تعلق نہیں۔‘

چوہدری نثار نے کہا کہ لندن میں الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ اور ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات میں برطانوی حکام کے ساتھ تعاون جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ لندن میں الطاف حسین کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور اس کا غصہ وہ پاکستان میں نکالتے ہیں۔

اسی بارے میں