نادرا ڈی این اے لیب کے قیام کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption حکومتِ پاکستان کو ملک میں ڈی این اے لیبارٹریز کی قلت کے سبب بیرونی ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے

پاکستان کی وفاقی حکومت نے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے ماتحت ڈی این اے لیبارٹری قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نادرا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ کے مطابق پاکستان میں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے کوئی بڑی لیبارٹری موجود نہیں ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے آئندہ چھ سے سات ماہ میں نادرا میں لیب بنائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ٹیسٹوں کے لیے نادرا تمام صوبائی اور قانونی اداروں کی رہنمائی کرے گی۔

وزیرِ داخلہ کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں محدود پیمانے پر ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے اور حکومت کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بیرونی ممالک سے مدد لینی پڑتی ہے۔

ڈاکٹر خالد رانجھا وفاقی وزیرِ قانون کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈی این اے لیبارٹری کا قیام ایک اچھی پیش رفت ہے تاہم اس میں مستند ٹیسٹ یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے قانونِ شہادت میں واقعاتی شہادتوں کی بہت جگہ ہے۔ ’جیسے کہ فورینسک ٹیسٹ، بلڈ ٹیسٹ وغیرہ لیکن ہم ان پر اعتماد نہیں کرتے۔‘

اعتماد نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مسئلہ طریقہ کار نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو نتائج کے حصول کے لیے متعلقہ ’ڈیٹا فیڈ‘ کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت چاہتی ہے تو انھیں اس تمام طریقہ کار پر کنٹرول کرنا ہو گا جن کے ذریعے ٹیسٹ کی مشینوں میں درست معلومات ڈالی جائیں۔

خالد رانجھا نے بتایا کہ ہمارا مسئلہ شواہد اکٹھا کرنا نہیں ہے بلکہ استغاثہ کی جانب سے ’شواہد پیدا‘ کیا جانا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ واقعاتی شہادتیں اسلام کے عین مطابق ہیں تاہم ان کے حصول کے طریقۂ کار پر اعتماد نہیں کیا جاتا اور اس پر اعتماد تب ہی ہو گا جب اسے صحیح لوگ کریں گے۔

دوسری جانب اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کے مطابق جنسی زیادتی کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو واحد اور بنیادی ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں