پاکستان میں سزائے موت کے پسِ پردہ انسانی المیہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دسمبر 2014 میں پاکستان نے پھانسیوں پر سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا اور اس وقت سے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 190 پھانسیاں ریکارڈ کی ہیں

وہ زوردار آواز جتنی درد ناک تھی اتنی ہی تیز اور کانوں کے پردے پھاڑے دینے والی۔ وہ آواز پاکستان میں ایک جیل کے پھانسی گھاٹ سے آنے والی آواز تھی۔ میں پاکستان کی بڑی جیلوں میں سے ایک کے پھانسی گھاٹ کے قریب کھڑی تھی اور یہاں پاکستان میں سزائے موت سے متعلق معلومات اکٹھا کرنے آئی تھی۔

جیل سپرنٹینڈنٹ نے، جن کے ساتھ میں نے کئی گھنٹے گفتگو کرتے ہوئے گزارے، جیل میں پہلی چند پھانسیاں دیکھنے کے بعد اب وہ اپنے دفتر میں ان پر عمل درآمد کا انتظار کرتے ہیں۔

’آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ جب پھانسی گھاٹ کا پٹ کھلتا ہے تو کتنے دلوں کو تکلیف ہوتی ہے۔‘

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دسمبر 2014 میں پاکستان نے پھانسیوں پر سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا اور اس وقت سے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 190 پھانسیاں ریکارڈ کی ہیں اوررمضان میں عارضی بندش کے بعد پھانسیوں کی’ کنویئر بیلٹ‘ دوبارہ چل پڑی ہے۔

پاکستان دنیا میں اس سال پھانسیاں دینے والا سب سے بڑا ملک بنے والا ہے۔ وہ صرف چین اور ایران سے پیچھے ہے۔ یہ ایک شرمناک کلب ہے جسے میں کسی کو بھی شریک ہونے کی خواہش نہیں ہونی چاہیے۔

پھانسی گھاٹ کے اس دورے نے مجھے پاکستان میں پھانسیوں کے ان اعداد و شمار کے پیچھے چھپے انسانی المیے سے روشناس کروایا۔

میں نے قیدی ذوالفقار خان کے بارے میں سوچا جنھیں میں چھ مئی کو پھانسی دیے جانے سے قبل جانتی تھی۔ انھوں نے 16 برس ایک غیرمنصفانہ عدالتی سماعت کے بعد سزائے موت کے انتظار میں گزار دیے۔ اس دوران انھوں نے اپنا وقت اپنی اور دیگر قیدیوں کی تعلیم کے حصول میں صرف کیا۔ انہیں قیدی اور وارڈن حاصل کی گئی ڈگریوں کی وجہ سے ’ڈاکٹر ذوالفقار‘ کے نام سے پکارتے تھے۔

پھانسی گھاٹ کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں سوال آیا کہ ذوالفقار خان کے ذہن میں کیا خیال آیا ہوگا جب اس کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا ہوگا اور گھاٹ تک لے جایا گیا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے شفقت حسین کی سزائے موت پر عملدرآمد رکوانے کے لیے مہم چلائی تھی

کیا اس نے اپنے ساتھی قیدیوں کے بارے میں سوچا ہوگا جنہیں انھوں نے پڑھایا اور جذبہ دیا یا اپنی دو بیٹیوں کے بارے میں جو اب یتیم ہوگئی ہیں؟ میں جب بھی ان سے ملی وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ انہیں زندہ رہنے کا موقع چاہیے تاکہ وہ دوسروں کو پڑھاتے رہیں اور اپنی بیٹیوں کے ساتھ ہوں ۔ لیکن ان کی پھانسی نے ان سے یہ موقع چھین لیا۔

مجھے وہ جگہ دکھائی گئی جہاں قیدی پھانسی سے قبل اپنی وصیت لکھتے ہیں۔ اس سے مجھے خیال آیا کہ خضر حیات، جو سنگین ذہنی کیفیت کا شکار تھا، اپنی وصیت لکھنے کے بارے میں کیا سوچے گا اور کیا اسے اس کے لیے مدد درکار ہوگی۔ خضر حیات کو 28 جولائی کو پھانسی دی جانی تھی جو آخری لمحات میں لاہور سیشن کورٹ کے جج نے جیل حکام سے اس کی دماغی کیفیت کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے روک دی۔

صدر کے دفتر میں رحم کی زیر غور اپیل بھی خضر حیات کو پھانسی کے پھندے سے بچا سکتی ہے۔

اس سال پاکستان میں پھانسی دیے جانے والوں میں 16 سالہ محمد افضل بھی شامل تھے۔ پھانسی سے قبل جب محمد افضل سے اس کے آخری خواہش دریافت کی گئی تو اس نے ایک شخص کو چوری کے دوران مارنے کا اعتراف کیا لیکن اس غربت کا بھی ذکر کیا جس میں وہ پلا بڑھا۔

اس نے دعوی کیا کہ جس پولیس افسر نے اسے گرفتار کیا ساٹھ ہزار روپے کی رشوت کے عوض اس کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنائے گا لیکن اس کا خاندان بہت غریب تھا اور یہ پیسے نہیں ادا کر سکا۔ دہشت گردی کی آڑ میں اور کتنوں کو پھانسی دی گئی ہے محض اس وجہ سے کہ ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔

ایک اور زندگی چار اگست کو ختم ہوئی ہے اور وہ ہے شفقت حسین کی۔ اسے 2004 میں سزا سنائی گئی تھی ۔ اس کے وکلاء کا کہنا ہے کہ تشدد کے ذریعے حاصل کیا گیا ’اقبالی بیان‘ اس کی سزا کی بنیاد تھا اور یہ کہ مبینہ جرم کے وقت وہ کم عمر تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جیسے کہ یہ کہانیاں غمناک ہیں وہیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ سزائے موت کے حق میں دلائل کتنے کمزور ہیں۔

اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ پشاور سکول حملے کی ناقابل فہم سنگینی کے بعد ایک زبردست ردعمل کی ضرورت تھی۔ اس کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے لیکن سزائے موت جرائم یا دہشت گردی پر قابو پانے کا حل نہیں۔

اس سلسلے میں کوئی شواہد نہیں کہ جرائم روکنے کے لیے سزائے موت قید سے زیادہ موثر ہے۔ یہ بات عالمی سطح پر بشمول اقوام متحدہ کے کیے جانے والے بہت سے جائزوں میں ثابت ہوئی ہے۔

اس کے برعکس سپرنٹینڈنٹ نے اس دن جو کہا اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ آیا اس کا الٹا اثر ہوتا ہے۔

جب لشکر جھنگوی کے شدت پسند کو سزائے موت دی گئی گلیوں میں یہ چرچا تھا کہ اس تنظیم نے اس ’شہادت‘ کی خوشی میں مٹھائی تقسیم کی یعنی سزائے موت کو بھرتی کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

پاکستان میں سزائے موت کے استعمال کو مزید تکلیف دہ بناتی ہے وہ ہے منصفانہ عدالتی سماعت کے حق کی خلاف ورزی۔ نظام انصاف کمزوریوں سے اٹا ہوا ہے، ملزمان اکثر وکیل تک مناسب رسائی نہیں رکھتے، سزائیں تشدد کے ذریعے حاصل کیے گیے ’شواہد‘ کی بنیاد پر دی جاتی ہیں، کرپشن کا راج ہے، وہ گروپس جیسے کہ کم عمر اور ذہنی امراض میں مبتلا افراد جنھیں بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے، سزائے موت دی جاتی ہے۔

پاکستانی حکام دوبارہ اس سوچ سے سزائے موت پر پابندی عائد کریں کہ اسے حتمی طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ جب وہ لوگ جیسے کہ وہ سپرنٹینڈٹنٹ جو پھانسیوں کی تلخ حقیقت دیکھنے پر مجبور ہیں سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ظالمانہ، غیر انسانی اور بےعزتی پر مبنی سزا ہے، تو یہ موزوں وقت ہے کہ حکومت یہ اقدام کرے اور زندگی کے حق پر اس جاری یلغار کو ختم کیا جائے۔

اسی بارے میں