’خیبر پختونخوا میں دولتِ اسلامیہ کا خطرہ موجود ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption دولتِ اسلامیہ کا خطرہ ان علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جو قبائلی علاقوں سے ملے ہوئے ہیں اور جہاں شدت پسندی کے لیے زمین پہلے ہی سے ہموار ہے: ناصر خان درانی

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی نے کہا ہے کہ صوبے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا خطرہ موجود ہے تاہم سکیورٹی اداروں کی کوشش ہے کہ اس تنظیم کو پھیلنے سے روکا جائے اور ان کی فنڈنگ کے ذرائع پر کڑی نظر رکھی جائے۔

پشاور میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس سربراہ نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور یہ تنظیم ایک بحران سے گزر رہی ہے لہٰذا امکان یہی ہے کہ اس سے الگ ہونے کمانڈر دولت اسلامیہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔

’ پاکستان میں ایسی کوئی صورتِ حال نہیں کہ کوئی غیر ملکی شدت پسند کسی دوسرے ملک عراق یا شام سے آ کر دولتِ اسلامیہ میں شامل ہو جائے اور اس ضمن میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔‘

پولیس سربراہ کے مطابق ان اطلاعات میں بھی کوئی حقیقیت نہیں کہ دولت اسلامیہ کی جانب سے پاکستان میں نئے لوگوں کو بھرتی کیا جا رہا ہے۔

’ ایسی اطلاعات ضرور ہیں کہ دولت اسلامیہ کے پاس فنڈنگ کے ذرائع ہیں اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ دوسری تنظیموں سے منحرف ہونے والے کمانڈر اس تنظیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔‘

پولیس سربراہ نے مزید بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کا خطرہ ان علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جو قبائلی علاقوں سے ملے ہوئے ہیں اور جہاں پہلے سے شدت پسندی کے لیے زمین ہموار ہے۔

شہروں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ناصر خان درانی نے کہا کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران ایک حکمت عملی کے تحت صوبے کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور اس دوران ہزاروں دہشت گردوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ان کے بقول: ’آپریشن ضربِ عضب اور پولیس کی سرچ اینڈ سٹرائیک کارروائیوں کی وجہ سے گذشتہ سات ماہ میں صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 60 فیصد تک کمی آئی ہے جو پچھلے پانچ سالوں میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پشاور میں دہشت گردوں پر نظر رکھنے کےلیے چند ماہ کے دوران دو لاکھ کے قریب گھروں کا سروے مکمل کیا گیا ہے اور ان کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ بھی بنایا گیا ہے تاکہ شہروں میں شدت پسندوں کا داخلہ روکا جا سکے۔

دوسری جانب دولتِ اسلامیہ کے ایک اکاؤنٹ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دو تصاویر جاری کی گئی ہیں جس میں مبینہ طور پر شدت پسندوں کو کسی نامعلوم قبائلی علاقے میں دولتِ اسلامیہ کی بیعت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہو رہی کہ تصاویر میں دکھایا جانے والا علاقہ پاکستان کا ہے یا افغانستان کا۔

ایک ٹویٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’کاروانِ بیت اللہ محسود وزیرستان‘ دولتِ اسلامیہ کی بیعت کرتی ہے جس کے ساتھ ایک تصویر بھی ہے جس پر لکھا گیا ہے ’حکیم اللہ محسود کیمپ دولت اسلامیہ۔‘

تاہم ابھی تک محسود طالبان کی جانب سے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے ٰضمن میں کوئی باضابط بیان سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ نومبر سنہ 2013 میں تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈورن حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان تحریک میں امارت کے معاملے پر شدید اختلافات سامنے آئے تھے جس کے بعد محسود طالبان بھی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔

محسود طالبان کا مضبوط سمجھے جانے والا دھڑا سجنا گروپ تقریباً ایک سال پہلے ٹی ٹی پی سے الگ ہوگیا تھا لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ محسود طالبا ن کا کون سا دھڑا دولت اسلامیہ میں شامل ہوا ہے۔

اسی بارے میں