شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، کم از کم چار افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سنہ 2004 سے امریکی ڈرون طیاروں کے حملے جاری ہیں جس کی تعداد ایک اندازے کے مطابق اب چار سو تک پہنچ گئی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں کم از کم چار مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں دو میزائل الوار منڈی کے علاقے میں ایک مکان پر داغے گئے۔ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد ذرائع کے مطابق چار یا پانچ ہو سکتی ہے۔

پاکستان انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ حملہ حقانی نیٹ ورک کے کارکنان پر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد تحریک میں دھڑے بازی کی خبریں منظرِ عام پر آئی ہیں۔ ملا عمر کے بعد طالبان کے سربراہ ملا منصور بن گئے ہیں اور ان کے نائب حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی کو بنایا گیا ہے۔

قبائلی علاقوں میں رواں سال یہ نواں امریکی ڈرون حملہ ہے اس سے پہلے زیادہ تر امریکی جاسوس طیاروں کے حملے شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسیوں میں کیے گئے ہیں جس میں درجنوں شدت پسند مارے جاچکے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سنہ 2004 سے امریکی ڈرون طیاروں کے حملے جاری ہیں جس کی تعداد ایک اندازے کے مطابق اب چار سو تک پہنچ گئی ہے۔ ان حملوں میں سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی شدت پسند مارے جاچکے ہیں جن میں بعض اہم کمانڈر بھی شامل تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوج کی جانب سے آپریشن ضرب عضب بھی جاری ہے جس کی وجہ سے ایجنسی کا نوے فیصد علاقے شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔

پاکستان امریکی ڈرون حملوں کو ملکی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئےامریکہ سے متعدد بار سفارتی سطح پر احتجاج کر چکا ہےجبکہ امریکہ ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف موثر ہتھیار قرار دیتا ہے۔

پاکستان میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج بھی کر چکی ہیں۔

اسی بارے میں