لوگ کچے کا علاقہ چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

چاروں اطراف پانی کا گھیراؤ ہے، ایک جھونپڑی کے نیچے کچھ لوگ موجود ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئی کشتی آگے بڑھتی ہے اور اس میں سوار شخص ان لوگوں کو پیشکش کرتے ہیں کہ وہ انھیں محفوظ مقام پر لے جانے آئے ہیں، لیکن یہ لوگ یہ کہہ کر چلنے سے انکار کر دیتے ہیں اب پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور وہ یہاں ٹھیک ہیں۔

یہ کمشنر لاڑکانہ غلام اکبر لغاری ہیں جو کچے کے علاقے لاکھانو میں لوگوں کو سیلابی پانے سے نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں۔ سندھ میں حالیہ سیلاب کے دوران ساڑھے چھ لاکھ سے زائد افراد کا انخلا کیا گیا ہے جن میں سے دو لاکھ کا تعلق لاڑکانہ سے ہے۔

کشتی آگے بڑھتی ہے اور علی حسن جتوئی گاؤں کے ایک اور گھر کے سامنے رک جاتی ہے، جہاں کچھ خواتین اور بچے نظر آ رہے ہیں۔ کمشنر ایک نوجوان کو قریب لا کر بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ خالی کشتی بھی موجود ہے وہ انھیں لے جانے آئے ہیں۔ لیکن یہ خاندان بھی انکار کر دیتا ہے۔

Image caption لاکھوں ایکڑ اراضی پر جنگلات کو صاف کر دیا گیا ہے

ایک کچے گھر کے باہر نوجوان صحن میں پانی میں سے مٹی لگا کر اس کی سطح بلند کرتا ہوا نظر آیا جبکہ اس کے گھر کے قریب موجود ٹریکٹر نصف ڈوب چکا تھا۔ اس نوجوان کا کہنا ہے کہ کچا ان کی زندگی کا سہارا ہے۔

’پکے پر ہماری کوئی ذاتی ملکیت نہیں، وہاں ہمیں کون رہنے دےگا؟ کچے میں ہمارے پاس مال مویشی ہیں۔ ایک دو جانور بیچ کر اناج لے لیتے ہیں۔ پکے پر ملازمت ہے نہ مزدوری۔ وہاں تو بھوکے مر جائیں گے۔‘

کمشنر لاڑکانہ غلام اکبر لغاری کا کہنا ہے کہ کچے کی زمین قبضے کی زمین ہے، جب پانی اتر جاتا ہے تو پھر جھگڑے ہوتے ہیں کیونکہ یہاں مستقل نشانات نہیں ہیں۔ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ یہاں سے چلے گئے تو اس پر قبضہ ہو جائے گا جس کو ختم کرانا مشکل ہو گا۔ اسی لیے وہ یہاں سے نہیں نکلتے۔

دریائے سندھ کے اطراف میں کچے کے علاقے میں محکمہ جنگلات کی ساڑھے پانچ کروڑ ہیکٹر زمین موجود ہے، جس میں سے محکمے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ ہیکٹر پر قبضہ ہے۔

Image caption سندھ میں کچے کے علاقے میں اکثر زمین کے تنازعات پر جھگڑے ہوتے رہتے ہیں

کمشنر لاڑکانہ غلام اکبر لغاری کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر کچے کا علاقہ جنگلات کے لیے مختص ہوتا ہے، وہاں فصل اور آبادی نہیں ہونی چاہیے۔

’یہاں بدقستمی سے یہ ہوا ہے کہ گذشتہ 20 سالوں میں لوگوں نے جنگل کاٹ دیے اور یہاں کاشت کرنا شروع کر دی جس کو سب نے نظر انداز کیا۔ ہمارے یہاں کہا جاتا ہے کہ کاشت ہو رہی ہے لوگوں کو روزگار ملا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں ہے کہ جنگلات کاٹ کر آپ لوگوں کو روزگار دیں۔ اس کا کوئی اور متبادل ہونا چاہیے تھا۔‘

صوبائی وزیر آبپاشی نثار احمد کھوڑو کا کہنا ہے کہ ’کچے میں سیلاب سے دہرا فائدہ ہوتا ہے۔ موجودہ فصل پانی میں ڈوب گئی لیکن اس کے بعد ربیع کی فصل آئے گی یعنی گندم، جس کی بمپر پیداوار ہوتی ہے۔ اگر سیلاب نہ آئے تو کپاس اور گنے کی کیش کراپ ہو جاتی ہے۔ اس لیے کچے کے لوگ اپنے حال میں خوش ہیں۔‘

دریائے سندھ کے کچے میں سرکاری اندازوں کے مطابق دس لاکھ سے زائد آبادی رہتی ہے۔ کئی بڑے بڑے زمینداروں کی کچے میں ہزاروں ایکڑ زمین ہے جو سیاست میں بھی متحرک ہیں۔

Image caption سیلاب کے باوجود لوگ اپنی جگہ نہیں چھوڑتے

صوبائی وزیر آبپاشی نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ کچے کے لوگ صدیوں سے آباد ہیں وہ غیر قانونی طور پر نہیں رہتے۔ ’خدارا کبھی نہیں سوچیے گا کہ انھیں بیدخل کر کے کچے کو ویران کر دیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ کچے میں باقاعدہ سڑکیں بنائی جائیں اور بجلی سمیت جدید دنیا کی تمام سہولیات میسر ہوں۔‘

سیلاب میں جانی و مالی نقصان ہونے کے باوجود معاشی، قبائلی اور سیاسی مفادات لوگوں کے پیروں کی زنجیر بن چکے ہیں جو انھیں کچے سے نکلنے نہیں دیتے۔

اسی بارے میں