اولمپیئن قاسم ضیا کرپشن کے الزامات میں گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ FIH
Image caption قاسم ضیا پانچ برس تک پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بھی رہے

قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق اولمپیئن قاسم ضیا کو کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

احتساب عدالت نے قاسم ضیا کا جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے انہیں تفتیش کے لیے نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔

قاسم ضیا کو جمعے کی رات نیب پنجاب نے حراست میں لیا تھا اور انھیں سنیچر کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے قاسم ضیا کا 14 دن کا ریمانڈ دیتے ہوئے انہیں 22 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

نیب نے لگ بھگ چودہ برسوں کے بعد کسی سیاست دان کو پنجاب سے حراست میں لیا ہے۔

نیب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم قاسم ضیا سمیت پانچ افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے لوگوں سے کروڑوں کا فراڈ کیا ہے۔

نیب کے مطابق قاسم ضیا علی عثمان سیکیورٹیز کے ڈائریکٹرز میں ایک ہیں اور اس کمپنی نے سٹاک ایکسچینج میں جعل سازی کی اور عوام کو دھوکہ دیا۔

قاسم ضیا پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق صدر اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہے ہیں۔

وہ ماضی میں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے رکن بھی رہے اور اس ہاکی ٹیم کا حصہ تھے جس نے 1984 میں امریکہ میں ہونے والے اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔

قاسم ضیا پانچ برس تک پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بھی رہے اور 2013 میں اس عہدے سے الگ ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں