’بچوں سے مبینہ جنسی زیادتی‘، عدالتی تحقیقات کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان 2009 سے اِس طرح کے واقعات میں ملوث ہیں

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے قصور میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے پر جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

وزیرِاعلیٰ نے لاہور میں اتوار کو پنجاب کے محکمۂ داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کیس کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست کریں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی جبکہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ وزیرِاعلیٰ کی جانب سے یہ ہدایت گذشتہ ماہ قصور کے نواحی گاؤں حسین والا میں بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور اِس فعل کی ویڈیوز بنانے کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد کی گئی ہے۔

تین روز قبل بھی اہل علاقہ نے اِن مبینہ واقعات کے خلاف احتجاج اور پولیس پر پتھراؤ کیا تھا جس میں دو ڈی ایس پی سمیت 12 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے سنیچر کو واقعے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ اِس معاملے کی اعلیٰ ترین سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے۔

گاؤں حسین والا میں مبینہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے ایک نوجوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ان کے ساتھ جنسی زیادتی اس وقت کی گئی جب ان کی عمر گیارہ برس تھی۔ ملزمان انھیں زبردستی اُٹھا کر اپنے گھر لے گئے جہاں چار افراد نے اُس کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور اِس سارے واقعہ کی ویڈیو بھی بنا لی۔‘

نوجوان کے مطابق:’واقعہ میں ملوث افراد نے انھیں بلیک میل کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر میں نے اُن کی بات نہ مانی تو وہ یہ ویڈیو اُس کے دوستوں، گھر اور گاؤں والوں کو دیکھا دیں گے۔‘

ایک اور بچے کی والدہ کا کہنا تھا کہ’واقعہ میں ملوث افراد نے جب اُن کے بیٹے کے ساتھ جنسی زیادتی کی تو اُس وقت وہ پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔‘

بچے کی والدہ کے مطابق ’انھیں جب اس واقعہ کا علم ہوا تو اُس نے دو ماہ قبل پولیس میں جا کر شکایت درج کرائی تھی لیکن شکایت درج کرانے کے بعد ملزمان کی جانب سے اُس کو دھمکیاں ملیں اور کہا کہ ہم تمھیں اور تمھارے گھر والوں کو مار دیں گے۔‘

پولیس کے مطابق اِن واقعات میں ملوث سات ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جبکہ باقی پانچ افراد نے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔

ڈی پی او قصور رائے بابر سعیدکا کہنا ہے کہ سات مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جواِس وقت 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان 2009 سے اِس طرح کے واقعات میں ملوث ہیں۔

ڈی پی او رائے بابر کا کہنا ہے کہ پولیس کو اب تک صرف سات شکایات موصول ہوئی ہیں جن پر کارروائی کرتے ہوئے مقدمات درج کر لیے گے ہیں۔

اسی بارے میں