سندھ میں ہڑتال: ’رینجرز کی یقین دہانی پر کال واپس‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رابطہ کمیٹی نے کراچی سمیت سندھ بھر کے تاجروں، دکانداروں اور ٹرانسپورٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پیر کے روزاپنا کاروبار، دکانیں اور ٹرانسپورٹ بند رکھیں

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ڈی جی رینجرز کی جانب سے متحدہ کے کارکن کے قتل کی مذمت اور قاتلوں کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کے بعد سوموار کو سندھ بھر میں ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے۔

متحدہ کی رابطہ کمیٹی نے اتوار کو رات گئے ایک ہنگامی اجلاس میں ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر کی طرف سے متحدہ کے کارکن محمد ہاشم کی ہلاکت کی مذمت کو خوش آئندہ قرار دیا اور قاتلوں کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کے بعد ہڑتال کی کال واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

قبل ازیں رینجرز کے ترجمان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں خبردار کیا گیا تھا کہ کسی کو زبردستی دکانیں بند کرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے کارکن کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف آج یعنی پیر کے روز سندھ بھر میں ہڑتال کااعلان کیا تھا۔

ایم کیو ایم کے مطابق محمد ہاشم لیاقت آباد کا کارکن تھا جو چھ مئی کی شب نائن زیرو سے لیاقت آباد میں واقع اپنے مکان کی طرف جا رہا تھا کہ راستے سے اس کو رینجرز نے گرفتار کر لیا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہو گیا۔

ایم کیو ایم کے مطابق محمد ہاشم کے اہل خانہ نے عدالت سے رجوع کیا اوران کی بازیابی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی جس پر 28 جولائی کو عدالت کے حکم پر محمد ہاشم کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کی گئی۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ محمد ہاشم کے اہل خانہ کو تین ماہ بعد اتوار کو پولیس کے ذریعے یہ اطلاع ملی کہ محمد ہاشم کی لاش جامشورو سے ملی ہے جس کو ایدھی فاؤنڈیشن دفنا چکی ہے۔

ایم کیوایم نے محمد ہاشم کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہلاکت کے خلاف سندھ بھر میں پرامن ہڑتال کااعلان کیا تھا۔ رابطہ کمیٹی نے کراچی سمیت سندھ بھر کے تاجروں، دکانداروں اور ٹرانسپورٹروں سے اپیل کی تھی کہ وہ پیر کے روز اپنا کاروبار، دکانیں اور ٹرانسپورٹ بند رکھیں۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن عبدالحسیب نے محمد ہاشم کے اہل خانہ کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کی آڑ میں گذشتہ دو برسوں سے ایم کیو ایم کے کارکنان اور عوام کے بنیادی انسانی حقوق بری طرح پامال کیے جا رہے ہیں۔ اس عرصے میں ان کے تین ہزار ذمہ داروں، کارکنوں اور ہمدردوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ 31 دسمبر2014 سے اب تک ایم کیوایم کے 20 کارکنان کو گرفتارکرنے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا اور 45 کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رینجرز ترجمان نے اعلامیے میں شہریوں سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنی معمول کی زندگی جاری رکھیں اور زبردستی ہڑتال کرانے والوں کی فوری اطلاع رینجرز ہیلپ لائن پر دیں

عبدالحسیب کا کہنا تھا کہ مقتول محمد ہاشم ولد بدرالدین پیشے کے لحاظ سے فوٹوگرافر تھے اور نائن زیرو پر ایم کیو ایم فوٹوسیکشن کے رکن کی حیثیت سے تنظیمی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے ۔

دریں اثنا رینجرز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ قتل کسی کا بھی ہو قابل مذمت ہے لیکن بلا تحقیق ہڑتال شہری زندگی پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے اور کسی کو شہر کے معمولاتِ زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

رینجرز ترجمان نے اعلامیے میں شہریوں سے گزارش کی تھی کہ وہ اپنی معمول کی زندگی جاری رکھیں اور زبردستی ہڑتال کرانے والوں کی فوری اطلاع رینجرز ہیلپ لائن پر دیں۔

اسی بارے میں