کُلاچ سے کیلاش تک

Image caption ’ہم سب پریوں کا میلہ دیکھنے کیلاش جا رہے ہیں‘

کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے جو کراچی سے وادی کیلاش تک ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جائے گا۔پیش ہے پہلی قسط

کراچی سمندر کے کنارے، سمندر جیسا شہر ہے۔انسان اور مشینیں دونوں یہاں ہر وقت ایک بھنور میں گھومتے گھامتے کبھی اوپر کبھی نیچے جا رہے ہوتے ہیں۔

عجیب سی پکڑ ہے اس شہر کی۔ اپنی مرضی سے چلاتا ہے ہمیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اسے چلا رہے ہیں۔ بھلا بھنور کو بھی ہم چلا سکتے ہیں؟

مگر ایک دن جیسے قدرت کو آپ پر رحم آجائے اور کوئی آپ کو اس بھنور سے باہر کھینچ کر ایک سبک خرام رستے پر ڈال دے اور سفر کی تمام تر ذمہ داری بھی لے لے۔ ظاہر ہے قدرت کسی باکمال اور طاقتور آدمی کو ہی اس کام کے لیے چُنےگی۔

عادل جدون اُن باکمال لوگوں میں سے ایک ہے جو ہروقت با کمال لوگوں کو اپنے جلو میں لیے گھومتا پھرتا رہتا ہے۔گانے گاتا ہوا۔ تصویریں کھینچتا ہے۔ صحراؤں میں بھٹکتا ہے۔ دریاؤں سے معاشقے کرتا ہے۔ ویرانوں سے سرگوشیاں بھی کرتا ہے اور چلتے چلتے بھاری بھرکم آواز میں لطیفے سنا سنا کر ہمسفروں کو زبردستی ہنسنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

عادل جدون اپنی آواز کی طرح خود بھی لمبا چوڑا اور بھاری چہرے والا ایسا مست کردار ہے جو اگر ریڈ بُل کمپنی کو نظر آ جائے تو وہ اسے اپنی اشتہاری مہم میں بطور ریڈ بُل کے پیش کر سکتی ہے۔

Image caption کراچی سمندر کے کنارے، سمندر جیسا شہر ہے۔انسان اور مشینیں دونوں یہاں ہر وقت ایک بھنور میں گھومتے ہیں

اس طاقتور بیل کو دیکھ کر یقین ہو چلتا ہے کہ رستے میں کوسٹر اگر پھنس بھی گئی تو یہ اس کو کھینچتا ہوا اگلے سٹاپ تک پہنچا دے گا۔ یہ بیٹھتا ہمیشہ آخری نشست پر ہے جیسے کوئی چرواہا اپنے ریوڑ کو گُھمانے نکلا ہو۔

یہ قافلہ کراچی سے کیلاش کے لیے نکلا ہے اس میں پانچ سالہ فاطمہ اور چھ سالہ صلاح الدین سے لے کر 73 سالہ سلطان صاحب بمعہ اپنے اہل و عیال کے شامل ہیں۔ اور باقی نوجوانوں کا مختصرسا تعارف یہ ہے کہ سب بہترین شکاری ہیں۔اور اپنے دُور مار ڈیجیٹل کیمروں سے کبھی پرندوں کی اڑان کا شکار کرتےہیں۔تو کبھی موسموں کے بدلتے ہوئے رنگوں کا۔

کوئی خوبصورت مسکراہٹوں کا کلیکشن بناتا ہے۔تو کوئی پانی کے اندر جل پریوں کی تلاش میں ہے۔ کوئی ماڈلنگ ریمپ پر چمکتے ستاروں کو دیکھتا ہے توکوئی تاروں بھرے آسمان میں ٹوٹتے ستاروں کو۔ سب مست چریّے ٹائپ کے لوگ ہیں۔

ہم سب پریوں کا میلہ دیکھنے کیلاش جا رہے ہیں۔

مجھے لگتا ہے سفر کے دوران ہم ایک دوسرے کہ اتنے قریب رہتے ہیں کہ سامنے والا چہرہ زرا سا ڈی فوکس ہوجاتا ہے۔اور توجہ بھی تو رستے نے لے رکھی ہوتی ہے کہ ہم آخر تک ایک دوسرے کو صاف طور پر دیکھ ھی نہیں پاتے۔

راستہ ہوتا ہی اتنا خوبصورت ہے ۔۔۔ارے وہ دیکھو۔۔ وہ کیا لکھا ہےگاؤں کی دیوار پر۔۔ وہ بارش میں بھیگتا پولیس والا۔۔ وہ ننگے پاؤں بھاگتی بچی ۔۔۔ وہ بونا سا آدمی۔وہ دریا وہ ندی ارے بھئ گاڑی روکو نا پلیز۔۔۔ٹھیرو زرا میری پکچر لینا ۔ ٹھیرو میں سیلفی لے لوں۔ اور اوپر سے یہ ماڈرن سیل فونز جن میں کیمرے، واٹس ایپ، فیس بک جانے کیا کیا کچھ، آپ کو اپنے ہمسفروں کے چہرے پڑھنے ہی نھیں دیتا۔ان کے من میں جھانکنے ہی نہیں دیتا۔

مگر میں تو جھانکوں گا۔

Image caption عادل جدون اُن باکمال لوگوں میں سے ایک ہے جو ہروقت با کمال لوگوں کو اپنے جلو میں لیے گھومتا پھرتا رہتا ہے

رات کی اس آخری فلائیٹ میں اب انجن کی آواز باقی سب آوازوں کو دبا چکی ہے۔ قافلے کے مسافر مختلف نشستوں پر اونگھ رہے ہیں۔ کھڑکی سے باہر جھانکتا ہوا یہ سانولا سا خاموش چہرے والا نوجوان راجہ ہے یہ مِٹھی شہر کا رہنے والا ہے۔ ٹیپیکل تھری بچہ جس کی بڑی بڑی آنکھوں میں تلاش اور چہرے پر ٹھنڈی ریت جیسا سکون ہے ۔ اس براھمن بچے پر لکشمی دیوی پہلے دن سے مہربان ہے اور یہ اپنے صحرا کے رنگین موروں اور جانوروں پر۔

وائلڈ لائف میں فیلڈ آفیسر ہوں سر۔ ہم چھاپا مار ٹیم کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جہاں کسی شکاری کی خبر ملتی ہے ہم پہنچ جاتے ہیں۔ وہ دھیمے انداز میں بتا رہا تھا۔ پتہ کیسے چلتا ہے؟ میں نے پوچھا۔

آس پاس کے سب گاؤں والوں کو نمبر دے رکھے ہیں ہم نے۔ وہ ہمیں کال کر کے بتاتے ہیں کے فلاں گھر میں مور کا شکاری پہنچا ہوا ہے۔ بس ہم پہنچ جاتے ہیں۔

دراصل گاؤں والوں کی ایک دوسرے سے چھوٹی موٹی ناچاقی چلتی رہتی ہے۔ کبھی بکری کے سودے پر کبھی کسی کے رشتے پر۔ تو وہ ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اور اس طرح ہمارا کام بھی چلتا رہتا ہے۔ مجھے معاملہ سمجھا کر وہ جہاز کی کھڑکی سے نیچے دیکھنے لگا۔

راجہ شرما آج صبح تھرپارکر سے نکل کر، کراچی سے ہمارے ساتھ سفر میں ہے۔ رات کے ڈیڑھ بج رہے ہیں مگر اس کے چہرے پر کوئی تھکن نہیں ہے۔ لگتا ہے حالات نے ان تھریوں کی ڈکشنری میں سے تھکن کا لفظ مٹا دیا ہے۔

ایک زور دار جھٹکے سے آنکھ کھلی۔ جہاز لاہور انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر کسی منہ زورگھوڑے کی طرح بھاگ رہا تھا۔پائلیٹ نے پوری قوت سے اس کی لگامیں کھینچ رکھی تھیں۔ جہاز کے رُکتے ہی موبائل فونز کے خاموش جھینگرجاگنے لگے۔۔۔۔

اسی بارے میں