بلوچستان اسمبلی میں بھی الطاف حیسن کے خلاف مذمتی قرارداد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے پہلے سندھ اسمبلی میں بھی الطاف حسین کے خلاف مذمتی قرارداد منظور ہو چکی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی اسمبلی نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ قرارداد اسمبلی میں صوبائی وزراء میر سرفراز بگٹی، رحمت صالح بلوچ، مشیر برائے خزانہ میر خالد لانگو اور دیگر اراکین کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی۔

قرارداد کے متن میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے پاکستان اور اس کے دفاعی اداروں کے خلاف بیانات کی مذمت کی گئی تھی۔

اس قرارداد کے مطابق الطاف حسین نے دشمن کی زبان بولتے ہوئے پاکستان کی سالمیت اور قومی اداروں کے خلاف نفرت انگیز اور قابل اعتراض تقاریر کی ہیں جو ملکی سلامتی پر حملے کے مترادف ہے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کی تقاریر دشمن قوتوں کو تقویت بخشتی ہے اور یہ غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

قرارداد کے مطابق عوامی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس طرح کے عناصر کی سرکوبی کی جائے۔

بلوچستان اسمبلی میں منظور ہونے والی اس قرارداد میں وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی کہ الطاف حسین جو کہ برطانوی شہری بھی ہے کو وطن واپس لایا جائے۔

قرارداد میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ الطاف حسین اور اس کے حامی پارٹی عہدیداروں کے خلاف آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 کے تحت فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اراکین کے اظہار خیال کے بعد جب قائم مقام سپیکر میر عبد القدوس بزنجو نے قرارداد کو رائے شماری کے لیے پیش کیا تو اسے منظور کر لیا گیا۔

اسی بارے میں