لوئر دیر میں بم دھماکے میں امن لشکر کا رکن ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امن کمیٹی کے اراکین پر صوبہ بھر اور قبائلی علاقوں میں متعدد حملے ہو چکے ہیں جن ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں ایک بم دھماکے میں مقامی لشکر کمیٹی کے رکن دلاور خان کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح فجر کی نماز کے بعد پیش آیا۔ پولیس کانسٹیبل گل بہادر نے بتایا کہ لوئر دیر شہر سے کوئی چار کلومیٹر دور سوری پائے زیارت کلے میں دلاور خان فجر کی نماز کے بعد واپس گھر جا رہے تھے کہ راستے میں دھماکے کی زد میں آ گئے۔

یہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا تھا۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دلاور خان کے گھر کی طرف کچا راستہ جاتا ہے جہاں نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا تھا۔

دلاور خان مقامی امن کمیٹی کے رکن تھے۔ یہ امن کمیٹیاں خیبر پختونخوا میں سنہ 2009 اور سنہ 2010 میں مختلف علاقوں میں اس وقت قائم کی گئی تھیں جب شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔ ان امن کمیٹیوں میں مقامی لوگوں کو مسلح کر کے شدت پسندوں کے خلاف چوکس رکھا جاتا تھا۔

امن کمیٹی کے اراکین پر صوبہ بھر اور قبائلی علاقوں میں متعدد حملے ہو چکے ہیں جن ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ اس سے قبل لوئر دیر میں امن کمیٹیوں پر چند ایک حملے ہی ہوئے لیکن لوئر دیر اور اس کے قریب علاقے جیسے سوات اور ملاکنڈ میں بڑی تعداد میں امن کمیٹیوں کے اراکین کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔

ان دنوں ان امن کمیٹیوں کی حیثیت واضح نہیں ہے۔ بعض علاقوں میں ان امن کمیٹیوں یا امن لشکروں کو ختم کر دیا ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ کمیٹیاں اب بھی فعال ہیں۔ امن کمیٹیوں یا امن لشکروں سے حکومت کی حمایت واپس لینے کے بعد اب ان کمیٹیوں یا لشکروں کے اراکین زیادہ محفوظ نہیں رہے۔

اسی بارے میں