مبینہ جنسی زیادتی: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو دو ہفتوں میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی میں ایس پی خالد بشیر چیمہ، ڈی ایس پی لیاقت علی شامل ہیں

پاکستان کے صوبے پنجاب کے علاقے قصور میں مبینہ طور پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے پنجاب حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو دو ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کروائے گی۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ڈی آئی جی ابوبکر خدا بخش کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں خفیہ اداروں کے دو اہلکار بھی شامل ہوں گے۔

مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی میں ایس پی خالد بشیر چیمہ، ڈی ایس پی لیاقت علی شامل ہیں۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس واقعے پر مذمتی قراردادیں متفقہ طور پر منظورکرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

پیر کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں منظوری کی گئی مذمتی قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے۔

قومی اسمبلی میں قصور سکینڈل کے خلاف مذمتی قرارداد حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے رکن ریاض حسین پیرزادہ نے پیش کی۔ قراردار میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے۔

سینیٹ میں متحدہ قومی موومنٹ کی سینیٹر نسرین جلیل کی جانب سے پیش کی گئی قراردار میں حکومت پر زوردیا کہ وہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائے اور واقعے میں ملوث افراد کڑی سزائیں دی جائیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق شیخوپورہ رینج کے ریجنل پولیس افسر صاحبزادہ شہزاد سلطان نے کہا ہے کہ قصور کےگاؤں حسین والا میں بچوں کو مبینہ طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں اب تک پولیس کے پاس 30 ویڈیوز آئی ہیں جن میں کہیں بھی یہ تاثر نہیں ملتا کہ ان بچوں کو زبردستی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب قصور کی ایک مقامی عدالت نے متعدد بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں پانچ ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کردی ہے۔

Image caption کچھ ویڈیو جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں نے پولیس کو فراہم کیں، جبکہ زیادہ تر ویڈیوز ملزمان کے قبضے سے برآمد کی گئی ہیں

مقامی پولیس کے مطابق ان مقدمات میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد اب 13 ہوگئی ہے جبکہ ایک ملزم ابھی تک مفرور ہے۔ یہ تمام ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔

پولیس افسر صاحبزادہ شہزاد سلطان نے کہا کہ ان 30 ویڈیوز میں نو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے جبکہ ان ویڈیو کلپس کے ذریعے ہی اس میں ملوث سات ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔

صاحبزادہ شہزاد سلطان کے مطابق جن چھ ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری کروا رکھی تھی وہ گرفتار ہونے والے ملزمان کے باپ اور چچا ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کچھ ویڈیو جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں نے پولیس کو فراہم کیں، جبکہ زیادہ تر ویڈیوز ملزمان کے قبضے سے برآمد کی گئی ہیں۔

ریجنل پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات بےمعنی ہوجاتی ہے کہ اس میں ملزم اور زیادتی کا شکار ہونے والوں کی رضامندی شامل تھی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ مقامی میڈیا پر 285 بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کی خبریں آ رہی ہیں جبکہ ابھی تک پولیس کے پاس ان واقعات سے متعلق سات مقدمے درج ہوئے ہیں۔

شہزاد سلطان کے مطابق اس واقعے سے متعلق پہلا مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے متاثرہ گاؤں میں جاکر مساجد میں اعلان بھی کروائے ہیں کہ اگر کوئی بھی جنسی تشدد کا شکار ہوا ہے وہ آ کر پولیس کو اطلاع دے لیکن ابھی تک کوئی نیا مقدمہ درج نہیں ہوا۔

مقامی آبادی کے رہائشی عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ گاؤں کے بہت سے بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن عزت کی خاطر یہ لوگ پولیس کو شکایت درج کروانے سے گریزاں ہیں۔

اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار بھی لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر انھوں نے ان واقعات کے بارے میں رپورٹ درج کروائی تو یہ اُن کے حق میں بہتر نہیں ہو گا۔

آر پی او کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اور مقدمات کی سماعت لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہو گی۔

دوسری جانب پنجاب حکومت کی طرف سے اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا خط لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کو موصول ہوگیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کے ان واقعات کی انکوائری کے لیے سیشن جج کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔

اسی بارے میں