سوات میں 96 مکتب سکول بند کرنے پر والدین کا احتجاج

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں صوبائی حکومت کے حکم پر مختلف علاقوں میں قائم 96 مکتب سکولوں کو بند کردیاگیا۔

سکولوں کے بندش کے خلاف منگل کوسینکڑوں بچوں اور انکے والدین نے مینگلور چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان سکولوں میں 1700 سے زائد بچے زیر تعلیم تھے۔

سوات کے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر پلاننگ اینڈ ڈویلمپنٹ فضل خالق نے سکولوں کے بندش کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں مکتب سکولوں کی تعداد 123 ہے۔ جن میں96 کو بند کردیاگیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سوات میں مکتب سکولوں کی اکثریت بغیر عمارت کے تھے اور پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے کے بعد یہ سکول غیر محفوظ تصور کیے جارہے تھے جس کی وجہ سے صوبائی حکومت کی طرف سے مکتب سکولوں کو بند کرنے کے حوالے سے سخت ہدایات ملی تھیں۔

ان کے مطابق بند ہونے والے سکولوں کو عمارت والے سکولوں میں ضم کیاگیا ہیں تا کہ بچوں کی زندگیاں محفوظ کی جاسکیں۔

بند ہونے والے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں اور اُن کے والدین کی جانب سے فیصلے کے خلاف مظاہرے میں پاکستان میں تعلیم کےشعبے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم الف اعلان کے نمائندے بھی موجود تھے۔

الف اعلان سے وابستہ ڈاکٹر جواد اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایک ہزار سے زائد مکتب سکول بند کر دیے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک لاکھ سے زیادہ بچوں کا تعیلمی سلسلہ متاثر ہوا ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سوات میں 96 سکولوں کی بندش سے 1700 سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں اور ان مکتب سکولوں کی بندش سے معصوم بچوں کو چار سے پانچ کلو میٹر دور پیدل سکول جانا پڑے گا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سوات میں پرائمری کی سطح کی تعلیم کے لیے لڑکیوں کے433 جبکہ لڑکوں کے 843 سکول ہیں جن میں 1806 خواتین اور 3188 مرد اساتذہ ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم الف اعلان کے مطابق سوات میں 28 فیصد بچے سکول نہیں جاتے جبکہ لڑکیوں کی سکول میں داخلہ لینے کی شرح 44 فیصد ہے مگر صرف دو فیصد طالبات ہی دسویں جماعت تک پہنچ کر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ پاتی ہیں۔

اسی بارے میں