طالبان کے اندرونی مسائل تعلقات میں کشیدگی کی وجہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ ARG
Image caption پاکستان افغانستان کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے افغانستان کی مکمل حمایت کرتا ہے: دفتر خارجہ

رواں ہفتے کے آغاز میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی اخباری کانفرنس نے مبصرین کے مطابق ناصرف پاکستان کے ساتھ ماضی کی تلخیاں دوبارہ تازہ کر دیں بلکہ طالبان کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکراتی عمل کو بھی بظاہر خطرے میں ڈال دیا ہے۔

کیا ڈاکٹر اشرف غنی کا صبر کا پیمانہ اچانک لبریز ہوگیا یا ان کی انتظامیہ میں موجود پاکستان مخالف لابی کامیاب ہوئی ہے؟ پاکستان خصوصاً فوج جو تعلقات کی بہتری اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی بابت تعاون میں پیش پیش تھی، کے لیے اس تازہ ’سپیڈ بریکر‘کو عبور کرنے پر غور یقیناً ہو رہا ہوگا۔

اشرف غنی کا پیغام، مایوسی یا دھمکی؟

’پاکستان سے امن معاہدہ‘

پاکستان کی وزارت خارجہ نے افغان صدر کی کانفرنس کے جواب میں ایک بیان بھی جاری کیا۔ بیان میں پاکستان نے خود کو بھی دہشت گردی کا شکار ملک ظاہر کیا اور کوشش کی کہ اس سے اس سلسلے میں ہمدردی کی جائے ناکہ اس پر الزامات کی بوچھاڑ کی جائے۔ ترجمانِ دفتر خارجہ نے وزیر اعظم نواز شریف کے الفاظ دوہرائے کہ پاکستان افغانستان کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے افغانستان کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

سینئیر پاکستانی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں ناکامی کی واحد وجہ پاکستان نہیں بلکہ افغانستان کے اندرونی مسائل بھی ہوسکتے ہیں۔ ’دو منہ والی کابل حکومت جو اپنی کابینہ بھی مکمل نہیں کرسکی ہے، اپنی مرضی کے گورنر تک تعینات نہیں کرسکے ہیں اور اس سب میں سکیورٹی چیلنجوں سے نبرد آزماں افغان حکمراں۔‘ پاکستانی تجزیہ نگاروں کے خیال میں پاکستان کو افغانستان کی جانب سے آگ کا جواب پانی سے دینا چاہیے۔

کابل میں گذشتہ جمعرات سے چار بڑے حملے اور لوگر اور قندوز میں دو خودکش حملوں نے اب تک 80 افراد کو ہلاک جبکہ 300 کو زخمی کیا ہے۔ اسے گذشتہ کئی برسوں میں افغانستان کا سب سے زیادہ جان لیوا ہفتہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption افغان صدر اشرف غنی نے پاکستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو میں شہدا کی یاد پر پھول چڑھائے تھے

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کی فوج پشاور کے سکول حملے کے بعد افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں پیش پیش تھی۔ جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کئی مرتبہ خود کابل گئے اور افغان انتظامیہ کے ساتھ براہ راست بات کی۔ دونوں ممالک کے خفیہ اداروں کے درمیان مفاہمت کروائی گئی۔ اب دوبارہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھی کچھ لوگوں کے خیال میں انھیں ہی آگے آنا ہوگا۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں اس مرتبہ کی کشیدگی کی وجہ نا تو شاید آئی ایس آئی ہے اور نہ ہی سیاسی قیادت۔ اس مرتبہ کے حالات قدرے مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔

سب سے بڑی وجہ شاید افغان طالبان تحریک کے اندرونی مسائل ہیں۔ ایک جانب نئے امیر ملا اختر منصور نے مذاکرات سے انکار کیا ہے تو دوسری جانب انھوں نے تنظیم پر اپنی گرفت ثابت کرنے کے لیے کابل پر تازہ یلغار کا حکم دیا ہے۔ البتہ افغان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملے طالبان کے اندر قیادت کے معاملات سے منسلک جھگڑوں کو چھپانے کی ایک کوشش ہیں۔

ملا اختر منصور شاید اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایک جانب انھوں نے مذاکرات سے انکار کیا ہے تو دوسری جانب کابل پر حملوں کی ہدایت۔ اب یہ الگ ایک بحث ہے کہ اُن پر پاکستان کا کتنا کنٹرول ہے۔ جو نیا بیانیہ پاکستانی فوج ملک میں رائج کروانے کی کوشش میں ہے جس کے مطابق کوئی اچھا یا برا شدت پسند نہیں، اس میں پھر یہ صورتحال قابل فہم نہیں رہتی۔

افغان صدر کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جمعرات کو افغان وفد سے ملاقات سے قبل ایک تفصیلی منصوبہ تیار کرنے کے لیے اپنی حکومت کو ہدایت کریں گے جس پر عملدرآمد کے لیےاس وفد سے ملاقات کے دوران بات چیت کی جائے گی۔

بال ایک مرتبہ پھر کابل نے پاکستان کے کورٹ میں پھینک دیا ہے۔ ‘

اسی بارے میں